سوال:
میری بیوی کے والد ذہنی مریض ہیں، ان کی حالت یہ ہے کہ بعض اوقات جب انہیں پیشاب آتا ہے تو وہ لوگوں کے سامنے ہی اپنی شلوار اتار دیتے ہیں۔
ایک دن میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا تو میں (شوہر) نے بیوی کو طعنہ دیتے ہوئے کہا: "تمہارا باپ لوگوں کے سامنے شلوار اتار دیتا ہے۔" اس پر بیوی نے کہا: "اگر آئندہ تم نے مجھے یہ طعنہ دیا تو کہو کہ میں تم پر حرام ہوں گی۔" اس پر میں نے جواب دیا: "حرام ہوگی۔"
تقریباً تین ماہ بعد دوبارہ میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا تو میں نے غصے میں کہا: "تمہارا باپ بےغیرت ہے۔" اب یہ معلوم نہیں کہ اس وقت میرے ذہن میں لوگوں کے سامنے شلوار اتارنے والی بات تھی یا عام طور پر ہی "بےغیرت" کا لفظ استعمال کیا۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ اس صورت میں نکاح برقرار ہے یا نہیں؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں "تمہارا باب بے غیرت ہے" کے الفاظ کہنے سے چونکہ آپ کویقین نہیں ہےکہ اس سےآپ کی مرادسابقہ طعنہ دینا ہےیا نئ گالی دیناہے۔اس میں آپ کو شک ہےاور شک سے کوئی چیز ثابت نہیں ہوتی، لہذا مذکورہ صورت میں طلاق نہیں ہوئی، البتہ اس صورت میں احتیاطاً تجدیدِ نکاح کرلینا چاہیے۔
واضح رہے کہ بیوی کے والد کا ذہنی بیماری میں مبتلا ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، ان کے حق میں اس طرح کی تحقیر آمیز جملے کہہ کر بیوی کو طعنے دینا انتہائی نامناسب اور عند اللہ بڑے جرم کے مرتکب ہونے والی بات ہے، لہٰذا اس روّیہ سے مکمل طور پر بچنا لازم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
جامع الترمذي: (520/3، رقم الحديث: 1977، ط: دار الغرب الإسلامي)
عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليس المؤمن بالطعان»، ولا اللعان، ولا الفاحش، ولا البذيء
هذا حديث حسن غريب. وقد روي عن عبد الله من غير هذا الوجه
الدر المختار مع رد المحتار: (151/1، ط: دار الفكر)
ولو شك في نجاسة ماء أو ثوب أو طلاق أو عتق لم يعتبر، وتمامه في الأشباه.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی