resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: غصے میں طلاق کی نیت کے بغیر کہنا کہ جاو تم میری طرف سے فارغ ہو

(47239-No)

سوال: میاں بیوی کی کسی معمولی گھریلو مسئلے (بیوی کے ٹیوشن پڑھانے) پر بحث چل رہی تھی، جس میں کہیں بھی طلاق کا کوئی موضوع نہیں تھا، شوہر اپنے گھر سے جانے اوربیوی کو گاؤں بھیجنے کی بات کر رہے تھے۔اسی بحث سے جان چھڑانے کے لیے بیوی نے بول دیا آپ کو جو فیصلہ کرنا ہے کریں۔(آپ کو جانا ہے جائیں،مجھے بھیجنا ہے بھیجیں۔)ذہن میں کہیں بھی اس وقت طلاق کا کوئی خیال نہیں تھا، مقصد بحث سے جان چھڑانا تھا۔
اسی گرما گرمی میں شوہر نے بیوی کو یہ الفاظ کہے جاؤ تم میری طرف سے فارغ ہو، یہ الفاظ شوہر نے بیوی کے بغیر اجازت ٹیوشن پڑھانے پر غصے اور ناراضگی میں کہے دل میں کہیں بھی طلاق کا کوئی ارادہ یا نیت نہیں تھی، بیوی اسی وقت گھر چھوڑ کر آ گئی ، شوہر سے کوئی رابطہ نہیں رہا اور عدت گزر گئی۔
سوال یہ ہے کہ کنایہ الفاظ سے طلاق ہونے کی جو شرائط ہوتیں ہیں، ان میں سے ایک شرط بھی اس وقت نہیں تھی، نہ مذاکرہ طلاق تھا، نہ مطالبہ طلاق اور نہ شوہر کی نیت بیوی کو طلاق دینے کی تھی تو کیا اس ساری صورتحال میں طلاق واقع ہوئی یا نکاح قائم ہے؟ براے مہربانی راہنمائی فرمائیں۔جزاک اللہ

جواب: واضح رہے کہ "میں نے اسے فارغ کردیا" طلاق کے کنائی الفاظ میں سے ہیں جو غصّے کی حالت میں بولے جائیں تو ان سے ایک طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے، چاہے طلاق کی نیت ہو یا نہ ہو، اور مذاکرہ طلاق ہو یا نہ ہو۔
لہٰذا سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق جب شوہر نے غصے میں یہ الفاظ کہے "جاؤ تم میری طرف سے فارغ ہو" تو ان الفاظ سے بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی، اس لیے اگر میاں بیوی ایک دوسرے سے رجوع کرنا چاہتے ہیں تو وہ نئے حق مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کرسکتے ہیں۔ تاہم شوہر کو آئندہ اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الهداية في شرح بداية المبتدي: (235/1، ط: دار إحياء التراث العربي)
والجملة في ذلك أن الأحوال ثلاثة: حالة مطلقة، وهي حالة الرضا، وحالة مذاكرة الطلاق، وحالة الغضب.
والكنايات ثلاثة أقسام: ما يصلح جوابًا وردًا، وما يصلح جوابًا لا ردًا، وما يصلح جوابًا وسبًا وشتيمة. ففي حالة الرضا لا يكون شيء منها طلاقًا إلا بالنية، فالقول قوله في إنكار النية لما قلنا. وفي حالة مذاكرة الطلاق لم يصدق فيما يصلح جوابًا ولا يصلح ردًا في القضاء، مثل قوله: خلية، برية، بائن، بتة، حرام، اعتدي، أمرك بيدك، اختاري؛ لأن الظاهر أن مراده الطلاق عند سؤال الطلاق. ويصدق فيما يصلح جوابًا وردًا، مثل قوله: اذهبي، اخرجي، قومي، تقنعي، تخمري، وما يجري هذا المجرى؛ لأنه يحتمل الرد، وهو الأدنى، فحمل عليه. *وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك؛ لاحتمال الرد والسب، إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم، كقوله: اعتدي، واختاري، وأمرك بيدك، فإنه لا يصدق فيها؛ لأن الغضب يدل على إرادة الطلاق.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce