عنوان: بغیر کام کے تنخواہ لینے کا حکم (104756-No)

سوال: میرے ماموں گورنمنٹ کے ایک ادارے میں اونچی پوسٹ پر ہیں، انہوں نے مجھے اپنے ادارے میں ملازمت دلوائی ہے، لیکن وہ کہتے ہیں کہ آپ گھر پر بیٹھیں، صرف مہینے کی پانچ تاریخ کو آکر تنخواہ وصول کر لیا کریں، کیا میرے لیے یہ تنخواہ لینا جائز ہے؟

جواب: صورت مسئولہ میں آپ کے لیے گورنمنٹ سے بغیر کام کیے تنخواہ لینا شرعاً جائز نہیں ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کما فی النتف فی الفتاوی:

والاجارة لاتخلو من وَجْهَيْن
اما ان تقع على وَقت مَعْلُوم اَوْ على عمل مَعْلُوم فان وَقعت على عمل مَعْلُوم فَلَا تجب الاجرة الا باتمام الْعَمَل اذا كَانَ الْعَمَل مِمَّا لَا يصلح اوله إِلَّا بِآخِرهِ وان كَانَ يصلح اوله دون آخِره فَتجب الاجرة بِمِقْدَار مَا عمل واذا وَقعت على وَقت مَعْلُوم فَتجب الاجرة بِمُضِيِّ الْوَقْت ان هُوَ اسْتَعْملهُ اَوْ لم يَسْتَعْمِلهُ وبمقدار مَا مضى من الْوَقْت تجب الاجرة۔
(ج: 2، ص: 558,559، ط: دار الفرقان)۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 445
baghair kam ke / key tankhwa lene / leney ka hukum / hukm

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.