سوال:
سوال عرض خدمت یہ ہے کہ فٹ بال، کرکٹ یا دیگر اسپورٹس میں کھلاڑیوں کی طرح کپڑے پہن کر کھیلنا اور عام حالت میں پہننے کا حکم کیا ہے؟ نیز اگر ستر ظاہر نہ ہو اور کھلاڑیوں کی طرح پہننے ہوئے کپڑے ڈھیلے ہوں، اس سے مستور اعضاء ظاہر نہ ہوتے ہوں تو پھر کیا حکم ہے؟
جواب: واضح رہے کہ کھیل کود کے دوران مردوں کے لیے ایسا ڈھیلا ڈھالا لباس پہننے کی گنجائش ہے جس میں سترِ عورت کی مکمل رعایت رکھی جا سکتی ہو اور جسم کے پوشیدہ اعضاء کی ساخت اور بناوٹ نظر نہ آتی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیة: (136/6، ط: دار السلاسل)*
لا یجوز لبس الرقیق من الثیاب إذا کان یشف عن العورۃ فیعلم لون الجلد من بیاض أو حمرۃ، سواء في ذٰلک الرجل والمرأۃ ولو في بیتہا … وہو بالإضافۃ إلیٰ ذٰلک مخل بالمروء ۃ ولمخالفتہ لزي السلف … أما ما کان رقیقًا یسترر العورۃ؛ ولکنہ یصف حَجمَہا حتی یری شکل العضو فإنہ مکروہ، لقول جریر بن عبد اللّٰہ: إن الرجل لیلبس وہو عار یعني الثیاب الرقاق۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی