عنوان: کیا اہل کتاب کافر بھی دوسرے کفار کی طرح کافر ہیں؟(104862-No)

سوال: مفتی صاحب ! کیا اہل کتاب، یعنی عیسائیوں اور یہودیوں کو کافر کہنا درست ہے؟ دراصل بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ کیونکہ عیسائی اور یہودی اہل کتاب ہیں، اس لیے ان کو کافر کہنا درست نہیں، براہ مہربانی اس بارے میں رہنمائی فرمادیں۔

جواب: واضح رہے کہ وہ اہل کتاب (یہود ونصاریٰ) جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے، وہ بھی دوسرے منکرین نبوت کی طرح کافر ہیں، اس بات کو قرآن کریم نے صاف صاف بیان کیا ہے، لہذا یہ سمجھنا کہ اہل کتاب آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ایمان لائے بغیر آخرت میں نجات پا لیں گے، نہایت گمراہ خیال ہے، بلکہ قرآن کریم کی بہت سی صریح آیات اور احادیث متواترہ کے منافی ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ ۟ وَ مَا اخۡتَلَفَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ۔

(سورۃ آل عمران، آیت نمبر: 19)

ترجمہ:

بیشک (معتبر) دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے، اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی، انہوں نے الگ راستہ لاعلمی میں نہیں، بلکہ علم آجانے کے بعد محض آپس کی ضد کی وجہ سے اختیار کیا اور جو شخص بھی اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے تو (اسے یاد رکھنا چاہیے کہ) اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

(آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)

تفسیر:
یعنی اللہ تعالیٰ کے یہاں جو دین مقبول ہے، وہ صرف اسلام ہے، کوئی اور دین خدا کے یہاں مقبول نہیں، بعض حضرات جو کہتے ہیں کہ تمام مذاہب حق ہیں، راستے الگ الگ ہیں اور منزل سب کی ایک ہے، یہ صحیح نہیں ہے، یہ نہ صرف قرآن کا دعویٰ ہے، بلکہ عقل کا تقاضہ بھی ہے، وہ مذہب جو کامل توحید کی دعوت دیتا ہو اور بال برابر بھی شرک کی آمیزش کو گوارا نہیں کرتا ہو اور وہ مذاہب جن کے یہاں شرک ہی اصل طریقۂ حیات ہو، ان دونوں کی منزل ایک کیوں کر ہوسکتی ہے، جیسے روشنی اور تاریکی کا مقصد ایک نہیں ہوسکتا، اسی طرح متضاد فکر و نظر کے حامل مذاہب بھی ایک نہیں ہوسکتے، پس اسلام وحدتِ دین کا قائل ہے، نہ کہ وحدتِ ادیان کا۔
(آسان تفسیر : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب زید مجدہم)

قرآن کریم میں ان کے کفر سے متعلق صاف صاف الفاظ میں ارشاد فرمایا:

لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ ؕ وَ قَالَ الۡمَسِیۡحُ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ الۡجَنَّۃَ وَ مَاۡوٰٮہُ النَّارُ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ۔
(سورۃ المآئدۃ، آیت نمبر: 72)

ترجمہ:
وہ لوگ یقینا کافر ہوچکے ہیں، جنہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے۔ حالانکہ مسیح نے تو یہ کہا تھا کہ : اے بنی اسرائیل اللہ کی عبادت کرو، جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔ یقین جانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے، اللہ نے اس کے لیے جنت حرام کردی ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور جو لوگ (یہ) ظلم کرتے ہیں، ان کو کسی قسم کے یارومددگار میسر نہیں آئیں گے۔

وَقالَتِ اليَهودُ عُزَيرٌ‌ ابنُ اللَّهِ وَقالَتِ النَّصـرَ‌ى المَسيحُ ابنُ اللَّهِ ذلِكَ قَولُهُم بِأَفوهِهِم يُضـهِـٔونَ قَولَ الَّذينَ كَفَر‌وا مِن قَبلُ قـتَلَهُمُ اللَّهُ أَنّى يُؤفَكونَ ﴿٣٠﴾ اتَّخَذوا أَحبارَ‌هُم وَرُ‌هبـنَهُم أَر‌بابًا مِن دونِ اللَّهِ وَالمَسيحَ ابنَ مَر‌يَمَ وَما أُمِر‌وا إِلّا لِيَعبُدوا إِلـهًا وحِدًا لا إِلـهَ إِلّا هُوَ سُبحـنَهُ عَمّا يُشرِ‌كونَ ۔
(سورة التوبة، آیت نمبر:31)

ترجمہ:
یہودی تو یہ کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصرانی یہ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں، یہ سب ان کی منہ کی بنائی ہوئی باتیں ہیں، یہ ان لوگوں کی سی باتیں کر رہے ہیں، جو ان سے پہلے کافر ہوچکے ہیں، اللہ کی مار ہو اِن پر! یہ کہاں اوندھے بہکے جا رہے ہیں؟

لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ ۘ وَ مَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّاۤ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہُوۡا عَمَّا یَقُوۡلُوۡنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۳﴾
(سورہ المآئدۃ آیت نمبر 73)

ترجمہ:
وہ لوگ (بھی) یقینا کافر ہوچکے ہیں، جنہوں نے یہ کہا ہے کہ : اللہ تین میں کا تیسرا ہے (٤٩) حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، اور اگر یہ لوگ اپنی اس بات سے باز نہ آئے تو ان میں سے جن لوگوں نے ( ایسے) کفر کا ارتکاب کیا ہے، ان کو دردناک عذاب پکڑ کر رہے گا۔

إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا (١٥٠) أُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا۔
(سورۃالمائدۃ، آیت نمبر:151)

ترجمہ:
اور جو لوگ اللہ اوراس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اوراللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کچھ (رسولوں) پر تو ہم ایمان لاتے ہیں اور کچھ کا انکار کرتے ہیں اور (اس طرح) وہ چاہتے ہیں کہ(کفر اور ایمان کے درمیان) ایک بیچ کی راہ نکال لیں۔ (١٥٠)
ایسے لوگ صحیح معنی میں کافر ہیں اور کافروں کے لئے ہم ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے(١٥١)۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَسۡتُمۡ عَلٰی شَیۡءٍ حَتّٰی تُقِیۡمُوا التَّوۡرٰٮۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ وَ لَیَزِیۡدَنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا ۚ فَلَا تَاۡسَ عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ۔
(سورۃ المآئدۃ، آیت نمبر: 68)

ترجمہ:
کہہ دو کہ اے اہل کتاب ! جب تک تم تورات اور انجیل پر اور جو (کتاب) تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس (اب) بھیجی گئی ہے، اس کی پوری پابندی نہیں کرو گے، تمہاری کوئی بنیاد نہیں ہوگی، جس پر تم کھڑے ہوسکو۔ اور (اے رسول) جو وحی اپنے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کی گئی ہے، وہ ان میں سے بہت سوں کی سرکشی اور کفر میں مزید اضافہ کر کے رہے گی، لہذا تم ان کافر لوگوں پر افسوس مت کرنا۔

حضرت مفتی شفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ اپنی تفسیر "معارف القرآن" میں تحریر فرماتے ہیں:

ملحدین کا ایک گروہ وہ جو کسی نہ کسی طرح قرآن میں اپنے مکروہ نظریات کو ٹھونسنا چاہتا ہے اور انہوں نے اس آیت میں صراحت ذکر رسالت نہ ہونے سے ایک نیا نظریہ قائم کرلیا، جو قرآن و سنت کی بے شمار تصریحات کے قطعی خلاف ہے، وہ یہ کہ ہر شخص اپنے مذہب یہودی، نصرانی یہاں تک کہ ہندو بت پرست رہتے ہوئے بھی اگر صرف اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو اور نیک کام کرے نجات آخرت کا مستحق ہو سکتا ہے، تو اس کی نجات اخروی کے لیے اسلام میں داخل ہونا ضروری نہیں ہے۔

قرآن کریم نے جس جگہ ایمان مفصل کا بیان فرمایا، اس کے الفاظ سورۃ بقرہ کے آخر میں یہ ہیں:

اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مِنۡ رَّبِّہٖ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ؕ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ ۟ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ ۟ وَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ٭۫ غُفۡرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیۡکَ الۡمَصِیۡرُ۔
(آیت نمبر: 285)

ترجمہ:
یہ رسول (یعنی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس چیز پر ایمان لائے ہیں، جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے اور (ان کے ساتھ) تمام مسلمان بھی، یہ سب اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) ہم اس کے رسولوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے ( کہ کسی پر ایمان لائیں، کسی پر نہ لائیں) اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے (اللہ اور رسول کے احکام کو توجہ سے) سن لیا ہے، اور ہم خوشی سے (ان کی) تعمیل کرتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم آپ کی مغفرت کے طلبگار ہیں، اور آپ ہی کی طرف ہمیں لوٹ کرجانا ہے۔
اس آیت میں واضح طور پر ایمان کی جو تفصیلات بات بیان فرمائی ہیں، ان میں یہ بھی واضح کر دیا ہے، کسی ایک یا چند رسولوں پر ایمان لے آنا اس کے لئے کافی نہیں ہے، بلکہ تمام رسولوں پر ایمان شرط ہے، اگر کسی ایک رسول پر بھی ایمان نہ لایا تو اس کا ایمان اللہ کے نزدیک معتبر اور مقبول نہیں۔

دوسری جگہ ارشاد ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡفُرُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّ نَکۡفُرُ بِبَعۡضٍ ۙ وَّ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ۔
(سورۃ النسآء، آیت نمبر: 150)

ترجمہ:
جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرنا چاہتے اور کہتے ہیں کہ کچھ (رسولوں) پر تو ہم ایمان لاتے ہیں اور کچھ کا انکار کرتے ہیں، اور (اس طرح) وہ چاہتے ہیں کہ) کفر اور ایمان کے درمیان) ایک بیچ کی راہ نکال لیں۔
(آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)

اور ارشادِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہے:
عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم: "ولو كان موسى حيا ما وسعه إلا اتباعي". رواه أحمد والبيهقي في كتاب شعب الإيمان، وهو حديث حسن.

ترجمہ:
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر آج میرے بھائی موسی (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو انہیں میری اتباع کیے بغیر چارہ نہ ہوتا۔

تو اب کسی کا یہ کہنا کہ ہر مذہب والے اپنے اپنے مذہب پر عمل کریں، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے بغیر اور بغیر مسلمان ہوئے، وہ جنت کے مستحق اور آخرت میں نجات پا سکتے ہیں، یہ قرآن کریم کی مذکورہ آیات کی کھلی مخالفت ہے، اس طرح ہر مذہب و ملت ایسی چیز ہے کہ اس پر ہر زمانہ میں عمل کر لینا نجات اور فلاح کے لیے کافی ہے، تو پھر خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور نزول قرآن بے معنی ہو جاتا ہے اور ایک شریعت کے بعد دوسری شریعت بھیجنا فضول ہو جاتا ہے، سب سے پہلا رسول ایک شریعت ایک کتاب لے کر آ جاتا، تو کافی تھی دوسرے رسولوں کی کتابوں، شریعتوں کے بھیجنے کی کیا ضرورت تھی؟ زیادہ سے زیادہ ایسے لوگوں کا وجود کافی ہوتا، جو شریعت اور کتاب کو باقی رکھنے اور اس پر عمل کرنے اور کرانے کا اہتمام کرتے، جو عام طور پر ہر امت کے علماء کا فریضہ رہا ہے۔

اور اس صورت میں قرآن کریم کا یہ ارشاد کے "لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنہاجا" یعنی ہم نے تم سے ہر امت کے لئے ایک خاص شریعت اور خاص راستہ بنایا ہے، یہ سب بے معنی ہو جاتا اور پھر اس کا کیا جواز رہ جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر اور اپنی کتاب قرآن پر ایمان نہ رکھنے والے تمام یہود و نصاریٰ سے اور دوسری قوموں سے نہ صرف تبلیغی جہاد کیا، بلکہ قتل و قتال اور سیف وسنان کی جنگیں بھی لڑی اور اگر صرف روز آخرت اور اللہ پر ایمان لانا کافی ہوتا، تو بے چارہ ابلیس کس جرم میں مردود ہوتا؟

کیا اس کا ایمان روز آخرت پر نہیں تھا؟ اس نے تو عین حالت غضب میں بھی " إلى يوم يبعثون" کہہ کر آخرت کا اقرار کیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ مغالطہ صرف اس نظریے کی پیداوار ہے کہ مذہب کوئی برادری کے نوتہ کی طرح کسی کو تحفے میں دیا جاسکتا ہے اور اس کے ذریعے دوسری قوموں سے رشتے جوڑے جا سکتے ہیں، حالانکہ قرآن کریم نے کھول کر واضح کردیا ہے غیر مسلموں کے ساتھ ہمدردی، احسان، سلوک اور مروت سب کچھ کرنا سب کچھ کرنا چاہیے، لیکن مذہب کی حدود کی پوری حفاظت اور اس کی سرحدوں کی پوری نگرانی کے ساتھ۔

(باختصار وتصرف یسیر از معارف القرآن: 201،202/3)

صحیح مسلم کی روایت ہے:
(153) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : "وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّار".

ترجمہ:
حضرت ابوھریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، میری امت میں سے کوئی بھی یہودی یا نصرانی میری شریعت پر ایمان لائے بغیر مر گیا، تو وہ جہنم میں جائے گا۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 597
kia ehl e kitaab kaafir bhi doosray kuffar ki tarah kaafir hain?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com