عنوان: "جس کی نماز عصر چھوٹ گئی گویا اس کا گھر اور مال سب لٹ گیا۔" حدیث شریف کی تخریج (104975-No)

سوال: مفتی صاحب ! کیا مندرجہ ذیل دونوں احادیث مستند ہیں؟ (1) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کسی نے جان بوجھ کر عصر کی نماز ضائع کی، تو گویا اس نے اپنے سب اہل و عیال اور جائیداد کو ضائع کردیا۔ (صحیح البخاری: ج، 1، کتاب نمبر، 10، حدیث نمبر، 527) (2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی نماز فوت ہوجائے، گویا اس کا اہل و عیال اور مال ہلاک ہوا۔ (الترغیب و الترہیب: ج، اول، حدیث نمبر، 577)

جواب: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ۔

(بخاری، حدیث نمبر: 552)

ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس کی نماز عصر چھوٹ گئی گویا اس کا گھر اور مال سب لٹ گیا۔

مذکورہ بالا روایت بخاری شریف ، صحيح مسلم، جامع الترمذي، سنن أبي داؤد، سنن النسائى ، سنن ابن ماجہ اور موطا امام مالك اور حدیث کی دیگر کتب  میں موجود ہے اور سند کے اعتبار سے صحیح ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

قرآن و حدیث کی تفسیر تحقیقی میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Quran-o-Ahadees

06 Aug 2020
جمعرات 06 اگست - 15 ذو الحجة 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2020. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com