عنوان: سروگیسی (Surrogacy) یعنی کسی عورت کے رحم کو بچے کی پیدائش کیلئے کرایہ پر لینے کا شرعی حکم(104979-No)

سوال: مفتی صاحب ! اسلام میں surrogacy Mother (وہ عورت، جو کسی اور عورت کی خاطر مصنوعی تخم ریزی کے ذریعے نُطفہ قبول کرتی ہے) کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ شرعاً جائز عمل ہے؟

جواب: واضح رہے کہ خالق کائنات نے انسان کو اپنی حکمت کے ساتھ اچھے ڈھانچے میں ضرورت کی تمام چیزیں دیکر پیدا فرمایا ہے٬ اور انسانیت کی تخلیق کیلئے نکاح کو حلال اور پاکیزہ طریقہ تجویز فرمایا ہے٬ جوکہ انسانی نسب کے تحفظ اوربقاء کا ضامن ہے٬ اللہ رب العزت نے اولاد کے حصول کے سلسلے میں بیویوں کو بمنزلہ کھیت قرار دیا اور ارشاد فرمایا:

نِسَاؤكمْ حَرْثٌ لًَكُمْ فَأْتُوْا حَرْثَكُمْ أَنّٰى شِئْتُمْ ( البقرة: ٢٢٣)

ترجمہ: "تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں جس طرح چاہو ان کے پاس جاؤ"

جس طرح کسی دوسرے کی کھیت میں کاشت کاری کرنا جائز نہیں٬ اسی طرح کسی اور عورت سے حصول اولاد کی کوشش کرنا بھی درست نہیں٬ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

لا يحل لامرئ يؤمن بالله و اليوم الاخر ان يسقي ماءه زرع غيره (مشكوة ص ٢٩٠)

ترجمہ:"جو شخص اللہ پر اور روزِ آخرت پر یقین رکھتا ہے٬ اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ اپنا پانی (مادہ منویہ) دوسرے کے کھیت (اجنبی خاتون) میں ڈالے"


مذکورہ بالا نصوص اور اس قسم کے دیگر نصوص سے معلوم ہوتا کہ شریعت کی نظر میں نسلِ انسانی کی بقا اور حصولِ اولاد کا فطری طریقہ نکاح ہے٬ اور اپنی منکوحہ یا مملوکہ کے علاوہ کسی اور خاتون کے ذریعہ اولاد کے حصول کی کوشش کرنا٬ چاہے کسی بھی طریقے سے ہو٬ جائز نہیں ہے۔

سروگیسی (Surrogacy) میں عورت کا رحم کرایہ پر لیکر بچوں کے خواہشمند جوڑے اپنے مادہ منویہ یا دوسرے مردوں کے نطفے حاصل کرکے کرایہ کی عورت (Surrogate Mother) کے رحم کے ذریعہ بچے پیدا کرنے کوشش کرتے ہیں٬ یہ یقیناً انسانی شرافت کے خلاف ہے کہ کسی عورت یا مرد کے صنفی اعضاء یا مادہ منویہ سامان تجارت بن جائیں٬ نیز سروگیسی سے مادریت کا تقدس مجروح ہوتا ہے اور اس سے یہ محترم رشتہ بھی ایک تجارتی شکل اختیار کرلیتا ہے٬ لہذا حصولِ اولاد کے لیے کسی اور خاتون کے رحم کو استعمال کرنا٬ چاہے اجرت پر ہو یا بغیر اجرت کے٬ اسی طرح ہمبستری کے نتیجہ میں بیوی کے حمل ٹھہرنے کے بعد نطفہ کو اس کے رحم سے اجنبی خاتون کے رحم میں منتقل کردیا جائے یا غیر فطری طریقہ سے میاں بیوی کے مادہ منویہ لے کر اجنبی خاتون کے رحم میں ڈالا جائے٬ سب صورتیں مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر ناجائز و حرام ہیں:

پہلی وجہ یہ ہے کہ اس مقصد کیلئے جس اجنبی خاتون کی خدمات حاصل کی جائیں گی، وہ اس شخص کی منکوحہ نہیں ہوگی٬ جب کہ اپنی منکوحہ یا مملوکہ کے علاوہ کسی اجنیہ سے حصولِ اولاد کی کوشش کرنا شرعاً ممنوع ہے٬ اللہ تعالی نے عورت کی شرمگاہ کو نکاح کے ذریعہ مرد کے لئے حلال کیا ہے ٬رحم مادر شرمگا ہ کا حصہ ہے جہاں ایک شوہر کو ہی مجامعت کےذریعہ انزال کرنے کا حق ہے٬ دوسری عورت کی بچہ دانی میں کسی غیرمرد کا نطفہ داخل کرنا صریح زنا تو نہیں ہے٬ مگر زنا کے مشابہ ضرور ہے.

دوسری وجہ یہ ہے کہ حصولِ اولاد کے لیے کسی عورت کے رحم کو کرایہ پر یا مستعار لینے یا دینے کا طریقہ شریعت کے پاکیزہ مزاج، عفت وحیا اور اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے، اسلام میں شرم گاہ کے ذریعہ کمائی کرنے سے بھی منع فرمایا ہے٬ اور ایسی کمائی کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے.

تیسری وجہ یہ ہے کہ بلاضرورت شرعی کسی کے سامنے ستر کھولنا جائز نہیں٬ جبکہ اس طریقہ کار میں بے پردگی اور غیروں کے سامنے شرمگاہ کو بے پردہ کرنا لازم آتا ہے٬ جو شرعی ضرورت کے تحت نہیں آتا.

ناجائز ہونے کی چوتھی اور سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ مذکورہ طریقہ میں نسب کا اختلاط ہوتا ہے٬ (زنا کے حرام ہونے کی بھی ایک اہم وجہ اختلاط نسب ہے) اور شریعتِ مطہرہ نے حفاظتِ نسب کا بہت اہتمام اور تاکید فرمائی ہے، چنانچہ ایک مرد کی زوجیت سے نکلنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح سے پہلے عدت کا مرحلہ رکھنے میں یہی حکمت کار فرما ہے.

جہاں تک اولاد نہ ہونے کا تعلق ہے، تو ایک مسلمان کا اس بات پر کامل یقین ہو کہ اولاد دینے والا اللہ ہے، اگر شادی کے بعد کچھ سالوں تک اولاد نہ ہو٬ تو مایوس نہیں ہونا چاہئے٬ بلکہ رجوع الی اللہ٬ صبر اور توکل سے کام لینا چاہئے٬ حصول اولاد کے سلسلے میں ناجائز ذرائع اختیار کرنا توکل کے خلاف ہے٬ ہاں اس مقصد کیلئے جائز اسباب اپنانا توکل کے منافی نہیں ہے٬ علاج کی ضرورت ہو تو مباح طریقے سے علاج بھی کرنا چاہئے٬ تمام اسباب اختیار کرنے کے باوجود اگر اولاد نہ ہو تو افزائش نسل کی طرح بانجھ پن بھی اللہ کی طرف سے ہے٬ اللہ پاک جسے چاہے، اپنی حکمت کے تحت بانجھ کردیتا ہے٬ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش بھی ہوسکتی ہے٬ ایک مومن کی شان ہے کہ ہر حال میں اللہ رب العزت کے احکام کو مقدم رکھے٬ نیز اس مقصد کیلئے کسی یتیم بچے یا کسی عزیز رشتہ دار سے بچہ لیکر گود لیا جاسکتا ہے٬ جس سے ایک حد تک اس خواہش کی تسکین ہوسکتی ہے٬ لہذا ایسے موقع پر اس طرح غیر فطری اور غیر شرعی طریقے پر کسی عورت کا اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کے نطفے کو اپنے رحم میں رکھوانا اور اس طریقے سے حصول اولاد کی کوشش کرنا ناجائز ٬ حرام اور مقاصد شریعت کے خلاف ہے٬ جس سے اجتناب لازم ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
لما فی القرآن الکریم:

"للَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ. أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَن يَشَاءُ عَقِيمًا ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ."

( الشوریٰ:رقم:۴۹،۵۰)

و فیہ ایضا:

"والذين هم لفروجهم حافظون . إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين. فمن ابتغى وراء ذلك فأولئك هم العادون."

(سورۃ المؤمنون :5-7 )


وفی مشکاۃ المصابیح:

"ان رسول الله صلي الله عليه وسلم نهي عن ثمن الكلب و كسب البغي و حلوان الكاهن"

( کتاب النکاح ، باب الاستبراء ،الفصل الثانی)

وفی حجة الله البالغة:

"منها: معرفة براءة رحمها من ماءه لئلا تختلط الانساب فان النسب احد ما يتشاح به و يطلبه العقلاء وهو من خواص نوع الانسان و مما امتاز به من سائر الحيوان" (٢/١٠٦)

وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:
"التلقیح الصناعی:ہو استدخال المنی لرحم المرأۃ بدون جماع. فإن کان بماء الرجل لزوجتہ، جاز شرعاً، إذ لا محذور فیہ، بل قد یندب إذا کان ہناک ما نع شرعی من الاتصال الجنسی.وأما إن کان بماء رجل أجنبی عن المرأۃ، لا زواج بینہما، فہو حرام؛ لأنہ بمعنی الزنا الذی ہو إلقاء ماء رجل فی رحم امرأۃ، لیس بینہما زوجیۃ. ویعد ہذا العمل أیضا منافیاً للمستوی الإنسانی، ومضارعاً للتلقیح فی دائرۃ النبات والحیوان"

(ج4 ص269 ٬مطبوعہ: شام)

وفی تحفة الفقہاء:
وَلاَ یُبَاح الْمس وَالنَّظَر الی مَا بَین السّرَّة وَالرکبَة الاَّ في حَالة الضَّرُورَة بأن کَانت الْمَرْأةُ خَتّانةً تختن النّساء أو کَانت تنظر الَی الْفرج لمعْرفة الْبکارة أو کَانَ في موضع العورة قرح أو جرح یحْتَاج الی التَّداوی وَان کانَ لا یعرفُ ذلک الاّ الرجل یکشف ذلک الخ
( ج۳ ص۳۴ کتاب الاستحسان٬ ط. دارالکتب العلمیة)

وفی فتح القدیر:

"ان الحبل قد یکون بإدخال الماء الفرج دون جماع فنادر"

(فتح القدیر ۴؍۳۱۵)

کذا فی فتاوی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی (فتوی نمبر : 143904200044)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کے لیے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com

میڈیکل (علاج و معالجہ) میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Medical Treatment

06 Aug 2020
جمعرات 06 اگست - 15 ذو الحجة 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2020. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com