سوال:
بعض حضرات کہتے ہیں کہ پانی پلانے کا ثواب بہت زیادہ ہے، انسان اپنے والدین سے بھی پانی مانگ سکتا ہے، کیا یہ بات ٹھیک ہے؟
جواب: واضح رہے کہ والدین کا ادب و احترام اور ان کی خدمت کرنا اولاد کی شرعی و اخلاقی ذمّہ داری ہے، تاہم اگر والدین اور اولاد کے درمیان بے تکلّفی ہو، اور والدین کسی چیز کے مانگنے کو معیوب نہ سمجھتے ہوں تو ایسی صورت میں اولاد کے لیے والدین سے پانی وغیرہ مانگنے کی گنجائش ہے، البتہ اگر والدین ضعیف، بیمار یا کمزور ہوں، یا جہاں والدین سے مانگنا ادب کے خلاف سمجھا جاتا ہو تو ایسی صورت میں ان سے پانی پلانے کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (بنی اسرائیل، الآیۃ: 23)
وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا o
شعب الإيمان:(10/307،رقم الحدیث:7538،ط:الرشد)
عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من أصبح مطيعا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة، وإن كان واحدا فواحدا أومن أمسى عاصيا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من النار، إن كان واحدا فواحدا] " قال الرجل: وإن ظلماه؟ قال: "وإن ظلماه، وإن ظلماه، وإن ظلماه".
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی