سوال:
السلام عليكم، کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک اسکول کا طالب علم ہے، جو مسجد میں نماز پڑھ کر اپنے اسکول کا سبق یاد کرتا ہے اور اس دوران مسجد کا پنکھا بھی استعمال کرتا ہے، آیا اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اس طالب علم کا گھر دوسری جگہ پر ہے اور یہاں ان کا گھر زیر تعمیر ہے۔
جواب: واضح رہے کہ مسجد کی تعمیر کا مقصد یہ ہے کہ اس میں نماز، ذکر، تلاوت قرآن کریم، وعظ و نصیحت اور دینی تعلیم ہو، لہذا صورت مسئولہ میں مستقلاً عصری تعلیم کی غرض سے مسجد میں جانا اور اس مقصد کے لیے وہاں کی اشیاء استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
المعجم الکبیر للطبرانی: (رقم الحدیث: 7473، 94/8، ط: مكتبة ابن تيمية، القاهرة)
عن أبي أمامۃ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: "من غدا إلی المسجد لا یریدُ إلا أن یتعلم خیرًا أو یُعلمہ کان لہ کأجر حاجٍّ تامًّا حجتہ".
(رواہ الطبراني في الکبیر، مجمع الزوائد ۱؍۱۲۳، الترغیب والترہیب مکمل، کتاب العلم / الترغیب في الرحلۃ في طلب العلم ص: ۴۸ رقم: ۱۴۵ بیت الأفکار الدولیۃ)
غمز عیون البصائر: (63/4، ط: ادارۃ القرآن)
"لأن المسجد ما بني إلا لصلاۃ أو اعتکاف وذکر شرعي وتعلیم علم وتعلمہ، وقراءۃ قرآنٍ".
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی