عنوان: ایزی پیسہ اکاؤنٹ اور اس سے ملنے والی مختلف سہولیات سے فائدہ اٹھانے کا حکم(105107-No)

سوال: مفتی صاحب !بعض موبائل والے ایزی پیسہ کے ذریعے ایزی لوڈ کرتے ہیں اور بعض موبائل والے موبائل کے ذریعے لوڈ کرتے ہیں، جو موبائل والے ایزی پیسہ کے ذریعے لوڈ کرتے ہیں یا پھر نیٹ کا پیکج کرواتے ہیں تو ایسا کرنے سے پیکج بھی سستا ملتا ہے اور ایزی لوڈ پر بھی ڈسکاؤنٹ ملتا ہے یا mbbs ملتے ہیں یا منٹس ملتے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ ایزی پیسہ سے اس طرح کا ایزی لوڈ، نیٹ کا پیکج کروا سکتے ہیں یا نہیں؟ دوسری بات یہ کہ آج کل سب جگہ لوگ موبائل رکھنے کے بجائے، ایزی پیسہ کے ذریعے زیادہ تر لوڈ کر دیتے ہیں، ایسے معاملے میں ایزی پیسہ کی سہولت سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے یا سود ہے؟ برائے کرم رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ

جواب: ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھلوانا فی نفسہ جائز ہے٬ اور اس میں جمع شدہ رقم کی حیثیت قرض کی ہے٬ البتہ اس سے حاصل ہونے والی سہولیات سے فائدہ اٹھانے سے متعلق تفصیل یہ ہے کہ :

1... جس سہولت کو حاصل کرنے کیلئے اکاؤنٹ میں متعین رقم رکھنا مشروط نہ ہو٬ بلکہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ کے ذریعے محض کسی بھی طرح رقم استعمال کرنے پر کسٹمر کو کمپنی کی طرف سے کوئی سہولت دی جائے٬ جیسے: کیش بیک وغیرہ ٬ تو اس صورت میں حاصل ہونے والی سہولت سے فائدہ اٹھانا جائز ہے٬ کیونکہ یہ کمپنی کی طرف سے سروس استعمال کرنے پر حط ثمن (قیمت میں کمی) یا انعام ہے۔

2... جن سہولیات کو حاصل کرنے کیلئے اکاؤنٹ میں متعین رقم رکھنا مشروط ہو٬ تو اس صورت میں کمپنی کی طرف سے حاصل ہونے والی سہولیات مثلا: فری منٹس٬ فری میسج یا رقم منتقل کرنے کی سہولت وغیرہ استعمال کرنا جائز نہیں ہے٬ کیونکہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں جمع شدہ رقم کی حیثیت چونکہ قرض کی ہے٬ اور اس پر ملنے والی سہولیات قرض کے ساتھ مشروط ہیں٬ جبکہ قرض دیکر اس پر مشروط نفع حاصل کرنا سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے٬ لہذا اس طرح کی سہولیات سے (جو اکاؤنٹ میں متعین رقم رکھنے کے ساتھ مشروط ہوں) استعمال کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
(ماخذہ: تبویب فتاوی جامعہ دارالعلوم کراچی٬ ٤١/٢٠٦١ )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

إعلاء السنن: (501/4)
"عن فضالة ابن عبید رضي اللّٰہ عنہ صاحب النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہ قال: کل قرض جر منفعۃ فہو وجہ من وجوہ من الربوا"

فقه البیوع: (803/1، ط: معارف القرآن)
"یجوز للمتعاقدین ان ینعقدا علی الزیادۃ او الحط فی الثمن بعد انجاز العقد٬ کما یجوز ان یتفقا علی الزیادۃ فی المبیع٬ وان الزیادۃ والحط یلحقان باصل العقد عند الحنفیۃ٬ کان البیع وقع علی قدر الحاصل بعد الزیادہ والحط"

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1629
easy paisa account or is se / sey milne / milney wali mukhtalif saholiyaat se / sey faida / fayeda uthane / othaney ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.