عنوان: انسان کی روح نکلتے وقت کتنی تکلیف ہوتی ہے؟ (105128-No)

سوال: انسان کو ایک نہ ایک دن ضرور موت کا ذائقہ چکھنا ہے، اس میں تو کوئی شک نہیں، سوال یہ پوچھنا ہے کہ موت کے وقت انسان کی روح نکلتے وقت جو تکلیف ہوتی ہے، تو کیا اس میں نیک اور بد دونوں برابر ہیں یا نیکوکار کی روح بغیر کسی تکلیف کے نکل جاتی ہے؟

جواب: واضح رہے کہ روح نکلنے کی تکلیف میں نیکوکار اور بدکار برابر نہیں ہیں، کیونکہ مرنے والے نیکوکار کی روح بہت آسانی سے بغیر کسی تکلیف کے نکل جاتی ہے، لیکن اگر مرنے والا بدکار ہے، تو اس کی روح شدید تکلیف کے ساتھ نکلتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الحدیث النبوی:

عن عبد الله بن بريدة، عن أبيه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «موت المؤمن بعرق الجبين»

(سنن النسائی، ج:4 ص:5، رقم الحدیث:1828)

وفیہ ایضاً:

عن عبد الله قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إن نفس المؤمن يخرج رشحا، ولا أحب موتا كموت الحمار» ، قيل: وما موت الحمار؟ قال: «روح الكافر يخرج من أشداقه»

(المعجم الکبیر للطبرانی: ج:10 ص:90 رقم الحدیث:10049)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 528
insan ki rooh nkalty wqt kitni takleef hoti hai?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.