resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: اپنے منصوبوں (Projects) کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے انہیں مخفی رکھنے سے متعلق حدیث

(51322-No)

سوال: محترم مفتی صاحب! اپنے ذہنی منصوبوں کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے ان کو مخفی رکھنا، اس حوالہ سے کیا کوئی مستند روایت کتبِ حدیث میں ملتی ہے؟

جواب: سوال میں پوچھی گئی روایت کو متعدد محدّثین عظام رحمہم اللہ نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے، جس میں راویوں کے متعبر ہونے اور متعدد طرق سے تقویت ملنے کی وجہ سے روایت کو آگے نقل کرنا درست ہے۔ ذیل میں روایت کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے:
"اپنی حاجتوں اور کاموں کی کامیابی کے لئے انہیں پوشیدہ رکھنے سے مدد حاصل کرو، کیونکہ ہر نعمت والا شخص حسد کا نشانہ بنتا ہے۔'' (المعجم الكبير، روایة خالد بن معدان عن معاذ بن جبل، 94/20، دار النشر: مكتبة ابن تيمية – القاهرة)
روایت کی مختصر وضاحت:
واضح رہے کہ حدیث شریف کے مطابق بلا وجہ اپنے معاملات کو قبل از وقت سب کے سامنے بیان کرنے سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ عین ممکن ہے کہ وہ کسی حاسد کے حسد کا شکار ہوکر معاملہ اپنی تکمیل تک نہ پہنچ سکے۔ باقی شریعت کےدوسرے حکم "مشورہ" کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے، اس کی ترتیب یہ ہونی چاہیے کہ اولاً کسی مخلص، ایمان دار اور تجربہ کار سے مشورہ کرلیا جائے، اس کے بعد راز داری رکھتے ہوئے کام کرلیا جائے، کیونکہ معاملات کو پوشیدہ رکھنے کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ کسی ایک انسان سے بھی اس کا ذکر نہ کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*المعجم الكبير، لأبي القاسم الطبراني سليمان بن أحمد (ت 360 ه)، (روایة خالد بن معدان عن معاذ بن جبل، 94/20، المحقق: حمدي بن عبد المجيد السلفي [ت 1433 ه]، دار النشر: مكتبة ابن تيمية – القاهرة):*
عن معاذ بن جبل-رضي الله عنه-، قال: قال رسول الله ﷺ: «استعينوا على إنجاح الحوائج بالكتمان؛ فإن كل ذي نعمة محسود»

*التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد، لأبي عمر يوسف بن عبد الله النمري القرطبي (ت 463ه)، (الحدیث السابع والثلاثون، 152/10، تحقيق: مصطفى بن أحمد العلوي , محمد عبد الكبير البكري، الناشر: وزارة عموم الأوقاف والشؤون الإسلامية – المغرب):*
«قوله ﷺ: "استعينوا على حوائجكم بالكتمان"، وفيه: أنه جائز للرجل أن يظهر الحديث الذي يناجيه به صاحبه إذا لم يكن في ذلك ضرر على المناجي، أو كان مما يحتاج أهل المجلس إلى علمه»

*فيض القدير شرح الجامع الصغير، لزين الدين محمد المدعو بعبد الرؤوف الحدادي ثم المناوي القاهري (ت 1031ھ)، حرف الهمزة، 493/1، الناشر: المكتبة التجارية الكبرى – مصر:*
«(استعينوا على إنجاح الحوائج) لفظ رواية الطبراني ، "استعينوا على قضاء حوائجكم" (بالكتمان) بالكسر، أي: كونوا لها كاتمين عن الناس واستعينوا بالله على الظفر بها۔ ثم علّل طلب الكتمان لها بقوله (فإن كل ذي نعمة محسود) يعني: إن أظهرتم حوائجكم للناس حسدوكم فعارضوكم في مرامكم، وموضع الخبر الوارد في التحدث بالنعمة ما بعد وقوعها وأمن الحسد۔ وأخذ منه أن على العقلاء إذا أرادوا التشاور في أمر إخفاء التحاور فيه، ويجتهدوا في طي سرهم»

*البدرُ التمام شرح بلوغ المرام، لحسين بن محمد بن سعيد اللاعيّ، المعروف بالمَغرِبي (ت 1119 ه)، (کتاب الجامع، باب الترهيب من مساوی الأخلاق، 256/10، المحقق: علي بن عبد الله الزبن، الناشر: دار هجر):*
«قال: "استعينوا على قضاء الحوائج بالكتمان؛ فإن كل ذي نعمة محسود" . وفي رواية: "إن لنعم الله تعالى أعداء". قيل: ومن أولئك؟ قال: "الذين يحسدون الناس على ما آتاهم الله من فضله". وفي رواية: "ستة يدخلون النار قبل الحساب لستة". قيل: من هم يا رسول بالله؟ قال: "الأمراء بالجور، والعرب بالعصبية، والدهاقين بالتكبر -والدهقان هو القوي على التصرف- والتجار بالخيانة، وأهل الرساتيق بالجهالة -وهم أهل السواد والقرى- والعلماء بالحسد"۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees