سوال:
محترم مفتی صاحب! کیا گھر میں بلی پالنا جائز ہے؟ نیز اگر وہ گھر کے کھانے یا پانی میں منہ مارے تو اس کو کھانا یا پینا کیسا ہے؟ دراصل میں نے ایک روایت پڑھی ہے کہ جس میں نبیﷺ نے فرمایا کہ یہ نجس نہیں ہیں۔ اور آپ ﷺ نے اس کے منہ لگانے کے بعد باقی ماندہ پانی سے وضو فرمایا تھا۔ کیا یہ روایت مستند ہے؟
جواب: واضح رہے کہ گھر میں بلی پالنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ اس کے کھانے پینے کا خیال رکھا جائے۔
باقی جہاں تک بلی کا گھر میں کھانے یا پانی میں منہ مارنے کا تعلق ہے تو اگر بلی کے منہ پر نجاست کے آثار نمایاں ہوں، مثلاً: خون لگا ہوا ہو یا بلی نے چوہا کھا کر فوراً ہی برتن میں منہ ڈالا ہو تو ایسی صورت میں اس کا جھوٹا نجس ہوگا، جبکہ عام حالات میں اس کا جھوٹا مکروہ ہے۔
سوال میں پوچھی گئی روایت کو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے متعدد محدّثینِ عظام رحمہم اللہ نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے، اس روایت سے اگرچہ بلا کراہت اس کے جھوٹے کا پاک ہونا معلوم ہوتا ہے، لیکن دوسری حدیث "الہرۃ سبع" (کہ بلی درندہ ہے) نیز جھوٹے میں مؤثّر اس کا گوشت بھی حرام ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے جھوٹے کو نجس قرار دیا جائے، تاہم پہلی والی حدیث اور حرج کی وجہ سے درمیانہ قول اختیار کرتے ہوئے بلی کے جھوٹے کو فقہاءِ کرام نے مکروہ لکھا ہے۔
البتہ فقہاء کا کہنا یہ ہے کہ یہ کراہت مال دار شخص کے حق میں ہے، لہٰذا اگر بلی نے گوشت یا دودھ وغیرہ میں منہ مارا اور انسان مالی اعتبار سے بہتر ہے تو اس کے لیے اس کھانے پینے سے احتیاط کر لینا بہتر ہے، جبکہ غریب آدمی بغیر کسی کراہت کے اس کو استعمال کر سکتا ہے۔ ذیل میں مکمل روایت کا ترجمہ ذکر کیا جاتا ہے:
حضرت کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا (جو حضرت ابنِ ابی قتادہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں) سے روایت ہے کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ان کے گھر تشریف لائے۔ میں نے ان کے وضو کے لیے پانی رکھا۔ اتنے میں ایک بلی آئی اور اس پانی میں سے پینے لگی۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے برتن اس کی طرف جھکا دیا تا کہ وہ خوب سیر ہو کر پانی پی لے۔
حضرت کبشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے مجھے اپنی طرف دیکھتے ہوئے پایا، تو فرمایا: "بھتیجی! کیا تمہیں تعجب ہو رہا ہے؟" میں نے عرض کیا: "جی ہاں۔" تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "یہ (بلی) ناپاک نہیں ہے، بلکہ یہ تمہارے پاس بار بار آنے جانے والوں (گھریلو جانوروں) میں سے ہے۔" (سنن أبي داود، كتاب الطهارة، باب سؤر الهرة، 56/1، الناشر: دار الرسالة العالمية)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل* :
*سنن أبي داود، لأبي داود سليمان بن الأشعث الأزدي السجستاني (202 - 275 ھ)،( کتاب الطهارة، باب سؤر الهرة،56/1، المحقق: شعيب الأرنؤوط [ت 1438 ه]- محمد كامل قره بللي، الناشر: دار الرسالة العالمية):*
عن كبشة بنت كعب بن مالك، -وكانت تحت ابن أبي قتادة-، أن أبا قتادة دخل فسكبت له وضوءا، فجاءت هرة فشربت منه، فأصغى لها الإناء حتى شربت، قالت كبشة: فرآني أنظر إليه، فقال: أتعجبين يا ابنة أخي؟ فقلت: نعم، فقال: إن رسول الله ﷺ قال: "إنها ليست بنجس، إنها من الطوافين عليكم والطوافات"۔
*شرح السنة، لمحيي السنة، أبو محمد الحسين بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوي الشافعي (ت 516 ه)، (کتاب الطهارة، باب طهارة سؤر الهرة والسباع سوى الكلب، 69/2، تحقيق: شعيب الأرنؤوط [ت 1438 ه]- محمد زهير الشاويش [ت 1434 ه]، الناشر: المكتب الإسلامي - دمشق، بيروت):*
وقوله ﷺ : "إنما هي من الطوافين عليكم أو الطوافات"، يتأول على وجهين، أحدهما: شبهها بالمماليك وبخدم البيت الذين يطوفون على أهله للخدمة، كقوله سبحانه وتعالى: {طوافون عليكم بعضكم على بعض} [النور: 58]. يعني: المماليك، والخدم. وقال إبراهيم: إنما الهرة كبعض أهل البيت۔ ومنه قول ابن عباس: إنما هو من متاع البيت. والآخر: شبهها بمن يطوف للحاجة والمسألة، يريد أن الأجر في مواساتها كالأجر في مواساة من يطوف للحاجة والمسألة.
*البحر الرائق شرح كنز الدقائق، لزين الدين بن إبراهيم بن محمد، المعروف بابن نجيم المصري (ت 970 ھ)، کتاب الطهارة، سؤر الکلب والخنزیر وسباع البهائم، 139/1، ط: دار الکتاب الاسلامي:*
«ولا يخفى أن كراهة أكل فضلها تنزيها۔ إنما هو في حق الغني؛ لأنه يقدر على غيره۔ أما في حق الفقير: فلا يكره، كما صرح به في "السراج الوهاج"، وهو نظير ما قالوا: إن السؤر المكروه إنما يكون عند وجود غيره، أما عند عدم غيره فلا كراهة أصلا»
*تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، لعثمان بن علي الزيلعي الحنفي، (أقسام الماء، الماء المستعمل، 33/1، الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة):*
أما كراهية سؤر الهرة؛ فلقوله ﷺ «الهرة سبع» والمراد به: بيان الحكم؛ لأنه ﷺ بعث له، لا لبيان الصور۔ ثم قال الطحاوي: كراهة سؤر الهرة لحرمة لحمها، وهذا يدل على أنها إلى التحريم أقرب كسباع البهائم؛ لأن الموجب للكراهة لازم غير عارض، وقال الكرخي: كراهيته لأجل أنها لا تتحامى النجاسة، وهذا يدل على التنزه، وهذا أصح.
والأقرب إلى موافقة الحديث؛ فإنه ﷺ قال فيها «إنها ليست بنجسة إنها من الطوافين عليكم والطوافات» فجعلها كالطوافين علينا، وهم المماليك أي: كما سقط الاستئذان في حق من ملكته أيماننا بعلة الطوف، سقطت النجاسة في حق الهرة بهذه العلة؛ إذ في كل واحد منهما حرج،
«واعلم أن قولهم إن الأصل في سؤر الهرة أن يكون نجسا، وإنما سقطت النجاسة بعلة الطواف يفيد أن سؤر الهرة الوحشية نجس، وإن كان النص بخلافه؛ لعدم العلة وهي الطواف؛ لأن العلة إذا كانت ثابتة بالنص، وعرف قطعا أن الحكم متعلق بها، فالحكم يدور على وجودها لا غير، كعدم حرمة التأفيف للوالدين إذا لم يعلم الولد معناه أو استعمله بجهة الإكرام، ذكره في "كشف الأسرار" في بحث دلالة النص»
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی