سوال:
محترم مفتی صاحب! مندرجہ بالاحدیث کی تشریح اور درست جانب رہنمائی کی درخواست ہے:
حضور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"عنقریب ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی، جنہیں وہ اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش والی وادیوں میں لے جائے گا (اور لوگوں سے الگ تھلگ رہے گا)۔"
میں نے بعض ساتھیوں کو دیکھا کہ وہ اس حدیث پہ چلتے ہوئے پاکستان کے بالائی علاقوں میں زمین کی خریداری کرنے گئے ہیں، تاکہ فتنوں سے محفوظ رہ سکیں۔ آپ کی رہنمائی چاہیے کہ ان کا یہ فیصلہ کس حد تک درست ہے؟
جواب: واضح رہے کہ متعدد محدّثین عظام رحمہم اللہ نے سوال میں پوچھی گئی روایت کو متعدد سندوں سے اپنی کتب میں نقل کیا ہے، لہذا روایت کامضمون بالکل مستند ہے اور اس کو آگے نقل کرنا بھی درست ہے۔
تاہم اس روایت کا مصداق ایسا زمانہ ہے، جس میں فتنوں کی کثرت کی وجہ سے دین وشریعت پر عمل پیرا ہونا بے حد مشکل ہوجائے، اس طور پر کہ کوئی شخص بھی اس فتنوں سے خود کو محفوظ رکھنے پر قادر نہ ہو اور بلا تعطل ان فتنوں کی زد میں گرفتار ہو کر دائرہ اسلام سے نکل جانے کا اندیشہ رکھتا ہو، ایسی صورت میں لوگوں سے اختلاط کے بجائے بالائی علاقوں وغیرہ کی جانب عزلت نشینی کی زندگی اختیار کرنا ہی راہِ نجات معلوم ہوتی ہو۔
البتہ موجودہ دور میں جہاں ہر طرف مادیت کا سیلاب ہے، ہر طرف فتنوں کی یلغار، علمی وعملی فتنے روز بروز سر اٹھاتے جارہے ہیں، ایسے ناگزیر حالات میں بھی ایسی دینی تحریکات اور ان کے علمبردار علماء ِربّانیین موجود ہیں، جو امّت کے افراد کی ایمانی حفاظت اور اخلاقی درستگی کے لئے ہر دم کوشاں ہیں، جن کی موجودگی ایک مسلمان کو ناامیدی سے نکال کر اس کے دل میں امید کا چراغ روشن کرتی ہے، لہذا ایسے حالات میں لوگوں سے بالکل کنارہ کش ہونے کے بجائے شارحین رحمہم اللہ نے لوگوں کے درمیان رہ کر اپنے اور دوسروں کے ایمان کی حفاظت اور اس کی فکر کرنے کو ترجیح دی ہے۔ چنانچہ اس بات کی تائید ایک مستند روایت سے بھی ہوتی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: "جو مؤمن لوگوں کےسا تھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی ایذا رسانی پر صبر کرتا ہے، وہ اس مؤمن سے بہتر ہے جو لوگوں کے ساتھ مل کر نہیں رہتا اور ان کی ایذاء پر صبر نہیں کرتا۔" (سنن ابن ماجه، باب الصبر علی البلاء، 1338/2، الناشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي)
بہرحال ذیل میں چند ایسی تدابیر کو ذکر کیا جاتا ہے، جن کے ذریعہ حتی المقدور اپنے ایمان کو بچایا جاسکتا ہے:
1) انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے اور اپنے بچوں کو ان مقدس ہستیوں کی قربانیوں اور محنت سے آگاہ کیا جائے۔
2) اہل حق علماء اور اور صلحاء کی صحبت اور ان کی مجالس میں شرکت کا اہتمام کیا جائے، جس کی بدولت انسان بہت سارے گناہوں سے بچا رہتا ہے، جو بسااوقات انسان کو کفر کی حد تک پہنچادیتے ہیں۔
3) اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری کی مکمل کوشش کی جائے اور خلاف ِ شرع امور سے خود کو باز رکھا جائے، ظاہر بات ہے کہ جتنی نیک اعمال کی کثرت ہوگی، اسی قدر ایمان کی مضبوطی حاصل ہوگی۔
4) تلاوت قرآن مجید اور اذکار کا اہتمام کیا جائے، بالخصوص فتنوں سے حفاظت کے لئے جمعہ کے روز سورہ کہف کی تلاوت جیسے نبوی عمل کو حرزِ جان بنایا جائے۔
5) فتنوں سے بچنے کے لیے تبلیغ میں وقت لگانا اور کسی معتبر خانقاہ یا اہلِ اللہ کی صحبت میں وقت گزارنا بھی مفید ہے، جس سے ایمان، اعمال اور اخلاق کی اصلاح ہوتی ہے۔
6)علمِ دین اور فہمِ دین کے کورسز میں شرکت کی جائے، خصوصاً مستند اہلِ علم کی زیرِ نگرانی منعقد ہونے والے پروگرامز میں وقت لگایا جائے، تاکہ دینی شعور میں اضافہ ہو، حق و باطل میں تمیز پیدا ہو ۔
7) فضائل وعقائد کے بیان پر مشتمل مستند کتب کا مطالعہ کیا جائے اور فتنوں سے حفاظت اور تدابیر پر مشتمل کتب کے مطالعہ کا معمول بنایا جائے، جس سے ایمان کی پختگی سمیت باطل کے حربوں کی سمجھ بوجھ پیدا ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل :
صحيح البخاري، لأبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي،(کتاب الفتن، باب التعرب في الفتنة، 2596/7، المحقق: د. مصطفى ديب البغا، الناشر: (دار ابن كثير، دار اليمامة) – دمشق):
عن أبي سعيد الخدري-رضي الله عنه- أنه سمعه يقول:سمعت النبي ﷺ يقول: "يأتي على الناس زمان، خير مال الرجل المسلم الغنم، يتبع بها شعف الجبال ومواقع القطر، يفر بدينه من الفتن".
سنن ابن ماجه، لأبي عبد الله محمد بن يزيد القزويني، وماجة اسم أبيه يزيد (ت 273 ه)،( باب الصبر علی البلاء، 1338/2، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي [ت 1388 ه]، الناشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي):
عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المؤمن الذي يخالط الناس، ويصبر على أذاهم، أعظم أجرا من المؤمن الذي لا يخالط الناس، ولا يصبر على أذاهم»
فتح الباری لابن حجر العسقلاني، (کتاب الفتن، باب التعوذ من الفتن، 43/13، رقم كتبه وأبوابه وأحاديثه: محمد فؤاد عبد الباقي [ت 1388 ه]، قام بإخراجه وتصحيح تجاربه: محب الدين الخطيب [ت 1389 ه]،ا لناشر: المكتبة السلفية – مصر):
وقد اختلف السلف في أصل العزلة، فقال الجمهور: الاختلاط أولى؛ لما فيه من اكتساب الفوائد الدينية؛ للقيام بشعائر الإسلام، وتكثير سواد المسلمين، وإيصال أنواع الخير إليهم، من إعانة وإغاثة وعيادة وغير ذلك. وقال قوم: العزلة أولى؛ لتحقق السلامة بشرط معرفة ما يتعين، وقد مضى طرف من ذلك في باب العزلة من كتاب الرقاق. وقال النووي: المختار تفضيل المخالطة لمن لا يغلب على ظنه أنه يقع في معصية، فإن أشكل الأمر فالعزلة أولى.
وقال غيره: يختلف باختلاف الأشخاص، فمنهم: من يتحتم عليه أحد الأمرين، ومنهم: من يترجح، وليس الكلام فيه؛ بل إذا تساويا فيختلف باختلاف الأحوال، فإن تعارضا اختلف باختلاف الأوقات، فمن يتحتم عليه المخالطة: من كانت له قدرة على إزالة المنكر، فيجب عليه، إما عينا وإما كفاية بحسب الحال والإمكان۔ وممن يترجح من يغلب على ظنه أنه يسلم في نفسه إذا قام في الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، وممن يستوي من يأمن على نفسه، ولكنه يتحقق أنه لا يطاع۔
وهذا حيث لا يكون هناك فتنة عامة، فإن وقعت الفتنة ترجحت العزلة لما ينشأ فيها غالبا من الوقوع في المحذور، وقد تقع العقوبة بأصحاب الفتنة فتعمّ من ليس من أهلها؛ كما قال الله تعالى: {واتقوا فتنة لا تصيبن الذين ظلموا منكم خاصة}۔ ويؤيد التفصيل المذكور حديث أبي سعيد-رضي الله عنه- أيضا: "خير الناس رجل جاهد بنفسه وماله، ورجل في شعب من الشعاب يعبد ربه ويدع الناس من شره"۔ وقد تقدم في "باب العزلة" من كتاب الرقاق حديث أبي هريرة الذي أشرت إليه آنفا، فإنّ أوله عند مسلم: "خير معاشر الناس رجل ممسك بعنان فرسه في سبيل الله"۔۔ الحديث، وفيه: ورجل في غنيمة الحديث، وكأنه ورد في أيّ الكسب أطيب؟، فإن أخذ على عمومه دل على فضيلة العزلة لمن لا يتأتى له الجهاد في سبيل الله، إلا أن يكون قيد بزمان وقوع الفتن، والله أعلم.
عمدة القاري شرح صحيح البخاري، لبدر الدين أبو محمد محمود بن أحمد العينى (ت 855 ه)، (کتاب الإیمان ، باب من الدین الفرار من الفتن، 163/1، عنيت بنشره وتصحيحه والتعليق عليه: شركة من العلماء بمساعدة إدارة الطباعة المنيرية، لصاحبها ومديرها محمد منير عبده أغا الدمشقي، وصوَّرتها دور أخرى: مثل (دار إحياء التراث العربي، ودار الفكر) – بيروت):
بيان استنباط الفوائد : وهو على وجوه. الأول: فيه فضل العزلة في أيام الفتن، إلا أن يكون الإنسان ممن له قدرة على إزالة الفتنة؛ فإنه يجب عليه السعي في إزالتها، إما فرض عين وإما فرض كفاية بحسب الحال والإمكان۔ وأما في غير أيام الفتنة، فاختلف العلماء في العزلة والاختلاط، أيهما أفضل؟ قال النووي: مذهب الشافعي والأكثرين إلى تفضيل الخلطة؛ لما فيها من اكتساب الفوائد، وشهود شعائر الإسلام، وتكثير سواد المسلمين، وإيصال الخير إليهم، ولو بعيادة المرضى، وتشييع الجنائز، وإفشاء السلام، والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، والتعاون على البر والتقوى، وإعانة المحتاج، وحضور جماعاتهم وغير ذلك مما يقدر عليه كل أحد۔ فإن كان صاحب علم أو زهد تأكد فضل اختلاطه. وذهب آخرون إلى تفضيل العزلة؛ لما فيها من السلامة المحققة، لكن بشرط أن يكون عارفا بوظائف العبادة التي تلزمه وما يكلف به، قال: والمختار تفضيل الخلطة لمن لا يغلب على ظنه الوقوع في المعاصي. وقال الكرماني: المختار في عصرنا تفضيل الانعزال لندور خلو المحافل عن المعاصي. قلت: أنا موافق له فيما قال، فإنّ الاختلاط مع الناس في هذا الزمان لا يجلب إلا الشرور.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی