عنوان: روزے کی حقارت اور مذاق اڑانے والا کافر ہے (105144-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! ایک مرتبہ میں نے اپنے دوست سے جو رمضان کے روزے نہیں رکھتا تھا، اسے کہا کہ روزہ رکھا کرو، ورنہ اللہ تعالی ناراض ہوجائیں گے، تو وہ اس نے آگے سے مجھے یہ جواب دیا کہ کیا اللہ تعالی بندے کو بھوکا رکھ کر ہی راضی ہوتے ہیں؟ اس پر میں نے اس کو خاموش کردیا، آپ اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے، کیا اس کا ایمان خطرے میں ہے؟

جواب: صورت مسؤلہ میں میں آپ کے دوست کا یہ کہنا کہ " اللہ تعالی بندے کو بھوکا رکھ کر ہی راضی ہوتا ہے" روزے کی تحقیر اور اس کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے، اور شریعت کے کسی بھی حکم کا مذاق اڑانا یا اس کی تحقیر کرنا کفر ہے، اس لیے مذکورہ جملہ کہنے سے آپ کا دوست دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا، لہذا اس کو فی الفور اپنے اس کلمۂ کفر سے توبہ کرکے تجدید ایمان اور تجدید نکاح کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الھندیۃ:

الاستہزاء بأحکام الشرع کفر۔

(عالمگیری ج:2 ص:281)

کذا فی النبراس:

الاستہزاء علی الشریعۃ کفر؛ لأن ذٰلک من أمارات التکذیب ۔

(نبراس ص:544 مکتبہ البشریٰ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 255
rozay ki haqarat or mazaaq oranay wala kaafir hai

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.