عنوان: کریم (careem) یا بائیکیا(bykea) کے riders کا official app استعمال کیے بغیر ride دینے اور اس کے پیسے خود رکھ لینے کا حکم(105166-No)

سوال: حضرت ! careem یا bykea کے riders بعض اوقات بغیر official app استعمال کیے ride دے دیتے ہیں اور پیسے خود رکھ لیتے ہیں تو کیا ایسی صورت میں ride لینا جائز ہوگا ؟ اور اگر جائز نہیں تو گناہ کس پر آئے گا؟

جواب: ہماری معلومات کے مطابق اگر careem یا bykea کے riders، کمپنی کی app کے ذریعے ride نہ اٹھائیں، تو وہ کمپنی کے معاہدے کے پابند نہیں ہوتے، بلکہ وہ ذاتی حیثیت سے معاملہ کرتے ہیں، اگر ہماری معلومات درست ہیں تو صورت مسئولہ میں اگر سفر کی منزل اور سفر سے پہلے اجرت مقرر کر لی جائے، تو ایسی صورت میں یہ معاملہ جائز ہے، اور riders کا ساری اجرت خود رکھنا بھی جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی قواعد الفقہ:

"الإجارۃ عبارۃ عن العقد علی المنافع بعوض ہو مال، فتملیک المنافع بعوض إجارۃ وبغیر عوض إعارۃ".

(قواعد الفقۃ: ۱۵۹)

وفیہ أیضا:

"والأجر والأجرۃ بدل الکراء، وبدل المنفعۃ في الإجارۃ، والأجر المسمي ہو الأجرۃ التي ذکرت وتعینت حین العقد".

(قواعد الفقہ: ۲۶۰)

وفي البدائع:

"وأما رکن الإجارۃ، ومعناہا : أما رکنہا فالإیجاب والقبول وذلک بلفظ دال علیہا وہو لفظ الإجارۃ والاستیجار والاکتراء، والإکراء فإذا وجد ذلک فقد تم الرکن".

(بدائع الصنائع ۴؍۱۶)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات وجوابات کے لیے ملاحظہ فرمائیں)

http://AlikhlasOnline.com

تجارت و معاملات میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

20 Sep 2020
01 Safar 1442

Copyright © AlIkhalsonline 2020. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com