عنوان: قریب ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا دور آئے، جب اسلام کا صرف نام اور قرآن کا صرف رسم الخط باقی رہ جائے گا.. الحدیث" اس حدیث کی تحقیق (105169-No)

سوال: وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِنَ الْهُدَى عُلَمَاؤُهُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ مِنْ عِنْدِهِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَةُ وَفِيهِمْ تَعُودُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان ترجمہ: علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قریب ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا دور آئے، جب اسلام کا صرف نام اور قرآن کا صرف رسم الخط باقی رہ جائے گا، ان کی مساجد آباد ہوں گی، لیکن وہ ہدایت سے خالی ہوں گی ، ان کے علماء آسمان تلے بدترین لوگ ہوں گے، ان کے پاس سے فتنہ ظاہر ہو گا اور انہی میں لوٹ جائے گا ۔‘‘ مفتی صاحب ! کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ براہ کرم وضاحت فر مادیں۔

جواب: سوال میں مذکور حدیث امام بیہقی رحمہ اللّٰہ نے اپنی کتاب شعب الایمان ذکر فرمائی ہے، حدیث کے الفاظ اور ترجمہ درج ذیل ہے:

أخرج البيهقي في شعب الإيمان (3 /317-318):

من طريق عبد الله بن دكين ، عن جعفر بن محمد ، عن أبيه ، عن جده ، عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِنَ الْهُدَى عُلَمَاؤُهُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ مِنْ عِنْدِهِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَةُ وَفِيهِمْ تَعُودُ»".

والحديث أورده ابن القيسراني في "الذخيرة" ٥/ ٢٨٠٨ (٦٥٨٣) وقال: رواه عبدالله بن دكين، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جده قال: قال علي بن أبي طالب: يوشك. وهكذا رواه بشر بن الوليد، عن عبدالله. ورواه يزيد بن هارون، عنه فرفعه. وعبد الله ليس بشيء. انتهى.
وللحديث شواهد من حديث عبدالله بن عمر، رواه الحاكم في التاريخ : ٥/ ٣١٧ (١٤٨٨٦)، ومن حديث معاذ بن جبل، رواه الديلمي في مسنده، ذكره السيوطي في "الجمع" : ٥/ ٣١٧ (١٤٨٨٦)، ومن حديث أبي هريرة رضي الله عنهم أجمعين، رواه الديلمي في مسنده، ذكره السيوطي في "الجمع" : ١٢/ ٤٢٢ (٢٨٣٩٦) ولا يخلو الحديث مع شواهده من ضعف
.


ترجمہ:

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قریب ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا دور آئے، جب اسلام کا صرف نام اور قرآن کا صرف رسم الخط باقی رہ جائے گا، ان کی مساجد آباد ہوں گی، لیکن وہ ہدایت سے خالی ہوں گی ، ان کے علماء آسمان تلے بدترین لوگ ہوں گے، ان کے پاس سے فتنہ ظاہر ہوگا اور انہی میں لوٹ جائے گا ۔‘‘

محدثین نے اس حدیث کے راوی عبد الله بن دكين کی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے، البتہ مذکورہ حدیث کا یہی مضمون دیگر صحابہ کرام حضرت ابوھریرہ، عبداللہ بن عمر اور معاذ بن جبل رضی اللّٰہ عنہم اجمعین سے بھی کتب حدیث میں مروی ہے، لیکن ان پر بھی محدثین نے کلام کیا ہے، تاہم چونکہ فی الجملہ اس حدیث کا مضمون دیگر احادیث سے ثابت و مؤید ہے، لہذا ایسی صورت میں اس حدیث کو اس کے ضعف کی وضاحت کے ساتھ بیان کیا جاسکتا ہے۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات وجوابات کے لیے ملاحظہ فرمائیں)

http://AlikhlasOnline.com

قرآن و حدیث کی تفسیر تحقیقی میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Quran-o-Ahadees

20 Sep 2020
01 Safar 1442

Copyright © AlIkhalsonline 2020. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com