resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: شعبان، محرم اور صفر میں شادی نہ کرنا

(5198-No)

سوال: ہمارے علاقے میں بعض لوگ شعبان، محرم اور صفر میں شادی کرنے کو منع کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان مہینوں میں شادی کرنا دولہا اور دلہن کے حق میں بہتر نہیں ہے، کیا یہ بات شریعت کی رو سے درست ہے؟

جواب: واضح رہے کہ یہ تمام توہمات جاہلیت کے دور کے ہیں، اسلام میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ شریعت میں کوئی ایسا دن، مہینہ یا سال نہیں ہے، جس میں شادی کرنے سے منع کیا گیا ہو اور نہ ہی کوئی ایسا دن ہے جس میں شادی کرنے کو باعثِ نحوست قرار دیا گیا ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح البخاری: (رقم الحدیث: 5757، 135/7، ط: دار طوق النجاۃ)
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: لا عدوی ولا طیرۃ ولا ہامۃ ولا صفر۔

روح المعانی: (131/15، ط: زکریا)
إذ الأیام کلہا للّٰہ تعالیٰ لا تنفع ولا تضر بذاتہا۔

مرقاۃ المفاتیح: (2894/7، ط: دار الفکر)
قال القاضي: ويحتمل أن يكون نفيا لما يتوهم أن شهر صفر تكثر فيه الدواهي والفتن.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

shaban muharram or safar mai shadi na karna, Not marry in Shaban, Muharram and Safar

اسلام میں نکاح ایک مسنون اور بابرکت عمل ہے، جس کے لیے کسی خاص مہینے کو منحوس قرار دینا شریعت سے ثابت نہیں۔ شعبان، محرم اور صفر میں شادی نہ کرنے کا تصور محض عوامی توہمات اور غیر اسلامی خیالات پر مبنی ہے۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کسی صحیح روایت میں یہ ثابت نہیں کہ ان مہینوں میں نکاح منع یا ناپسندیدہ ہے۔ خصوصاً ماہِ صفر کو منحوس سمجھنا جاہلیت کے عقائد میں سے ہے، جس کی اسلام نے صراحت کے ساتھ نفی کی ہے۔ لہٰذا اگر شرعی تقاضے پورے ہوں تو ان مہینوں میں نکاح کرنا بالکل جائز اور درست ہے، اور اس میں کسی قسم کی بے برکتی یا نحوست کا عقیدہ رکھنا غلط اور قابلِ اصلاح ہے۔

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs