عنوان: ابلیس جنّات میں سے ہے یا فرشتوں میں سے؟ (105212-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! ابلیس اپنے تکبر کی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا، کیا یہ اللہ کے مقرب فرشتوں میں سے تھا یا جنات میں سے تھا؟

جواب: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "کان من الجنّ" یعنی ابلیس جنّات میں سے تھا، مگر اپنی عبادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں میں شمار ہوتا تھا، لیکن اپنے تکبر کی وجہ سے سجدہ سے انکار کیا، اور مردود ہوگیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال اللہ تبارک وتعالیٰ:

اذ قال ربک للمئلکۃ انی خالق بشراً من طینO فاذا سویتہ‘ ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ‘ سجدین O فسجد الملئکۃ کلھم اجمعون O الا ابلیس ابیٰ واستکبر وکان من الکافرینO
(سورۃ ص آیت:34)

کذا فی التفسیر المظہری:

ان ابلیس کان من الملائکۃ لصحۃ الاستثناء کمامرعن ابن عباس فعلی ہذالایکون الملائکۃ کلہم معصومین بل الغالب منہم العصمۃ کماان بعضامن الانس معصومون والغالب منہم عدم العصمۃ وقیل کان جنیانشأ بین الملائکۃ ومکث فیہم الوف سنین فغلبوا علیہ ویحتمل کون الجن ایضاً مامورین بالسجودمع الملائکۃ لکنہ استغنی عن ذکرہم بذکرالملائکۃ لان الاکابر کماأمروابالسجودفالاصاغراولی۔
(تفسیر مظہری ص56 ؍ج1؍سورۃ بقرہ تحت آیت 34؍ مطبوعہ نعمانیہ دیوبند)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 321
iblees jinnat mai say hai ya farishton mai say?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.