عنوان: امام کے پاس مسجد کے جمع شدہ فنڈ سے امام کا خود تنخواہ لینا(105216-No)

سوال: ایک شخص مسجد کا امام وخطیب ہے، مسجد کی ساری ذمداری اس کے پاس ہے، کوئی کمیٹی اور تنخواہ کا نظام بھی صحیح طرح نہیں ہے، آمدن و خرچ کا نظام بھی اسی کے پاس ہے۔ کیا مسجد کے فنڈ سے امام صاحب کو تنخواہ دی جا سکتی ہے؟ یا مسجد کے فنڈ سے امام اپنی ضروریات کے لئے پیسے لے سکتا ہے؟

جواب: مسجد کا فنڈ مسجد کی ضروریات کے لیے ہوتا ہے، اور مسجد کی ضروریات میں امام کی تنخواہ بھی داخل ہے، لہذا صورت مسئولہ میں امام مسجد کے جمع شدہ فنڈ سے مقررتنخواہ کے بقدر لے سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

وفى الدر المختار :

(ويبدأ من غلته بعمارته)
ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم.

(ج:٤، ص: ٣٦٦، ط: دار الفكر )

وفي مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر

 (ويصرف الخراج والجزية وما أخذ من بني تغلب أو)......وفيه إشارة إلى أنه يصرف في بناء المساجد والبقعة عليها لأنه من المصالح فيدخل فيه الصرف على إقامة شعائرها من وظائف الإمامة والأذان ونحوهما.

(ج:١، ص: ٦٧٨، ط: دار إحياء التراث العربي)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 690
imaam kay paas masjid kay jama shuda fund say imaam ka khud tankhuwah lena

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.