سوال:
محترم مفتی صاحب! "لعبہ " نامی حور سے متعلق علامہ ابن قیم نے اپنی کتاب "حادی الارواح إلی بلاد الأفراح" میں، جبکہ ابن ابو الدنیا نے "صفة الجنة" میں ایک واقعہ کو نقل کیا ہے، جس کی سندی حیثیت معلوم کرنا مطلوب ہے۔ عبارت یوں ہے: عن ابن مسعود، قال: إن في الجنة حوراء يقال لها: اللُعْبَة، كل حور الجنان يعجبن بها يضربن بأيديهن على كتفها ويقلن " طوبى لك يا لُعْبَة لو يعلم الطالبون لك لجدوا، بين عينيها مكتوب: من كان يبتغي أن يكون له مثلي فليعمل برضاء ربي عز وجل۔
جواب: واضح رہے کہ متعدد احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ جنت کی حور کا نام "لُعْبَة"(لام کے پیش کے ساتھ) ہے، جس پر جنت کی دیگر حوریں رشک کرتی ہیں۔ باقی سوال میں پوچھی گئی روایت کو ابوبکر ابن ابی الدنیا نے اپنی کتاب "صفة الجنة" میں اپنی سند سے نقل کیا ہے، جس کے مطابق یہ روایت حضور ﷺ سے ثابت نہیں ، بلکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے (یعنی مذکورہ صحابی نے روایت کی سند کو نبیﷺ کی جانب نسبت کرکے بیان نہیں کیا ہے)، نیز مذکورہ روایت کی سند میں موجود راویوں پر کلام کیا گیا ہے، اور حسان بن عطیہ کا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہ ہونے کی وجہ سے روایت کو منقطع قرار دیا گیا ہے، تاہم دیگر سندوں اور مجموعہ روایات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے روایت کوتقویت ملتی ہے، لہذا مذکورہ روایت کو حضرت عبداللہ بن مسعود کی جانب نسبت کرکے آگے نقل کرنا درست ہے۔ ذیل میں روایت کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے:
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت ہے کہ جنت میں ایک حور ہے ، جس کو "لُعْبَة" نام سے جانا جاتا ہے، جنت کی تمام حوریں اس پر رشک کرتی ہیں، اور اس کے کندھے پر ہاتھ مار کر کہتی ہیں : اے لعبہ! تم کتنی شاندار ہو، اگر تمہیں چاہنے والے جان لیں تو تمہیں پانے کے لئے سخت محنت کریں۔
(صفة الجنة لابن أبي الدنيا، لأبي بكر عبد الله بن محمد بن عبيد بن سفيان بن قيس البغدادي، المعروف بابن أبي الدنيا (ت 281هـ)، باب صفة حور العین، رقم الصفحة: 212، تحقيق ودراسة: عمرو عبد المنعم سليم، الناشر: مكتبة ابن تيمية، القاهرة- مصر، مكتبة العلم، جدة – السعودية)
نیز "تنبیہ الغافلین" میں ابواللیث سمرقندی رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف روایت کو بغیر سند کے مزید تفصیل سے نقل کیا ہے، اس روایت کا ترجمہ بھی درجِ ذیل ہے:
"جنت میں ایک حور ہے جس کا نام "لُعبة" ہے۔ وہ چار چیزوں سے پیدا کی گئی ہے: مشک، عنبر، کافور اور زعفران۔ اس کی مٹی کو آبِ حیات سے گوندھا گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا:(روح سمیت یک جان) بن جا، سو وہ بن گئی۔ تمام حوریں اس کی عاشق ہیں، اگر وہ سمندر میں ایک بار تھوک دے تو سمندر کا پانی میٹھا ہوجائے، اس کے سینے پر لکھا ہے: ‘جو شخص میرے جیسی (نعمت) پانا چاہے، وہ میرے رب کی اطاعت کرے"۔
(تنبيه الغافلين بأحاديث سيد الأنبياء والمرسلين للسمرقندي، باب صفة الجنة وأهلها، رقم الصفحة 77، الناشر: دار ابن كثير، دمشق – بيروت)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل*:
*صفة الجنة لابن أبي الدنيا، لأبي بكر عبد الله بن محمد بن عبيد بن سفيان بن قيس البغدادي، المعروف بابن أبي الدنيا (ت 281ه)، (باب صفة حور العین، رقم الصفحة: 212، تحقيق ودراسة: عمرو عبد المنعم سليم، الناشر: مكتبة ابن تيمية، القاهرة- مصر، مكتبة العلم، جدة – السعودية):*
عن حسان بن عطية، عن ابن مسعود-رضي الله عنه-، قال: إن في الجنة حوراء يقال لها: اللُعْبَة، كل حور الجنان يعجبن بها يضربن بأيديهن على كتفها، ويقلن: " طوبى لك يا لعبة! لو يعلم الطالبون لك لجدوا، بين عينيها مكتوب: من كان يبتغي أن يكون له مثلي فليعمل برضاء ربي عز وجل۔
*تنبيه الغافلين بأحاديث سيد الأنبياء والمرسلين للسمرقندي، لأبي الليث نصر بن محمد بن أحمد بن إبراهيم السمرقندي (ت 373ه)، (باب صفة الجنة وأهلها، رقم الصفحة 77، حققه وعلق عليه: يوسف علي بديوي، الناشر: دار ابن كثير، دمشق – بيروت):*
«وعن ابن عباس رضي الله عنهما ، أنه قال: إن في الجنة حوراء، يقال لها: لُعْبَة، خلقت من أربعة أشياء، من المسك والعنبر والكافور والزعفران، وعجن طينها بماء الحيوان، فقال لها العزيز: كوني، فكانت، وجميع الحور عشّاق لها، ولو بزقت في البحر بزقة تعذب ماء البحر، مكتوب على نحرها "من أحب أن يكون له مثلي، فليعمل بطاعة ربي".»
*حادي الأرواح إلى بلاد الأفراح، ]لأبي عبد الله محمد بن أبي بكر بن أيوب ابن قيم الجوزية( (691 – 751، «الباب الرابع والخمسون في ذكر المادة التي خلق منها الحور العين وما ذكر فيها من الآثار وذكر صفاتهن ومعرفتهن اليوم بأزواجهن»، 513/1، المحقق: زائد بن أحمد النشيري، راجعه: يحيى بن عبد الله الثُّمالي - علي بن محمّد العمران، الناشر: دار عطاءات العلم (الرياض) - دار ابن حزم (بيروت):*
وذكر الأوزاعي عن حسَّان بن عطية عن ابن مسعود -رضي الله عنه- قال: "إنَّ في الجنَّة حوراء، يُقال لها: اللُّعبة، كل حور الجنان يعجبن بها، يضربن بأيديهنَّ على كتفها، ويقلنَ: طوبى لك يا لعبةُ، لو يعلم الطالبون لك لَجَدُّوا، مكتوبٌ بين عينيها: "من كان يبتغي أنْ يكون له مثلي فليعمل برضى ربي"۔
وقال عطاء السليمي لمالك بن دينار: يا أبا يحيى شوَّقنا، قال: "يا عطاء! إنَّ في الجنَّة حوراء يتباهى أهل الجنَّة بحسنها، لولا أنَّ اللَّهَ تعالى كتب على أهل الجنَّة ألا يموتوا لماتوا من حُسْنها، فلم يزل عطاء جهدا من قول مالك [أربعين عاما]»
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی