عنوان: ستاروں سے مستقبل کے حالات جاننا (105235-No)

سوال: کیا ستارے مستقبل کا حال بیان کرسکتے ہیں؟ جیسے کہتے ہیں کہ فلاں برج والے کے ساتھ یہ کچھ ہوگا، اور اسی طرح اپنی قسمت کا حال معلوم کرنا یا ان کو اخبار وغیرہ میں پڑھنا گناہ ہے؟

جواب: اسلام علم نجوم پر اعتماد کرنے کا قائل نہیں ہے، نہ ہی کوئی شخص کسی کی قسمت کا حال بتا سکتا ہے، ان تمام باتوں پر یقین کرنا گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔

حدیث شریف میں آتا ہے:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ". (سنن ابن ماجه)

ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ جس نے علم نجوم میں سے کچھ حاصل کیا، اس نے سحر (جادو ) کا ایک حصہ حاصل کرلیا، اب جتنا زیادہ حاصل کرے گا, گویا اُتنا ہی زیادہ جادو حاصل کرے گا‘‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الحدیث النبوی:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ".

(سنن ابن ماجه، كِتَابُ الْأَدَبِ، بَابُ تَعَلُّمِ النُّجُومِ، رقم: ٣٧٤٩)

کذا فی الشامیۃ:

والتنجیم۔۔۔۔۔۔۔۔انا زجر عنہ من ثلاثۃ اوجہ، احدھا انہ مضر باکثر الخلق ، وثانیھا: ان احکام النجوم تخمین محض، وثالثھا:انہ لا فائدۃ فیہ۔

(شامی ج:1 ص:44)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 689
sitaaron say mutaqbil kay halaat janna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com