عنوان: کفر اور شرک میں فرق (105247-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! کفر اور شرک کے درمیان کیا فرق ہے؟

جواب: جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے، ان میں سے کسی ایک بات کو بھی نہ ماننا یا انکار کرنا "کفر" ہے، مثلاً: کوئی شخص خداتعالیٰ کو نہ مانے یا خدا تعالیٰ کی صفات کا انکار کرے یا فرشتوں کا انکار کرے یا خدا تعالیٰ کی کتابوں میں سے کسی کتاب کا انکار کرے یا کسی پیغمبر کو نہ مانے یا تقدیر سے منکر ہو یا قیامت کے دن کو نہ مانے یا خدا تعالیٰ کے قطعی احکام میں سے کسی حکم کا انکار کرے یا رسول اللہ ﷺ کی دی ہوئی کسی خبر کو جھوٹا سمجھے، تو ان تمام صورتوں میں وہ کافر ہو جائے گا۔

شرک اسے کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ذات یا صفات میں کسی دوسرے کو شریک کرے، ذات میں شرک کرنے کے معنی یہ ہیں کہ دو تین خدا ماننے لگے، جیسے عیسائی تین خدا ماننے کی وجہ سے مشرک ہیں، اور جیسے آتش پرست کہ وہ دو خدا ماننے کی وجہ سے مشرک ہوئے، اور جیسے بت پرست کہ وہ بہت سے خدا مان کر مشرک ہوتے ہیں۔

صفات میں شرک کرنے کا معنی یہ ہے کہ خدا کی صفات کی طرح کسی دوسرے کے لیے کوئی صفت ثابت کرنا، کیوں کہ کسی مخلوق میں خواہ وہ فرشتہ ہو یا نبی ، ولی ہو یا شہید ، پیر ہو یا امام، خداتعالیٰ کی صفات کی طرح اس میں کوئی صفت موجود نہیں ہوسکتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی حجۃ اللہ البالغہ:

حقیقۃ الشرک أن یعتقد إنسان في بعض المعظمین من الناس أن الآثار العجیبۃ الصادرۃ منہ إنما صدرت لکونہ متصفاً بصفۃ من صفات الکمال مما لم یعہد في جنس الإنسان؛ بل یختص بالواجب جل مجدہ لا یوجد في غیرہ إلا أن یخلع ہو خلعۃ الألوہیۃ علی غیرہ أو یغنيغیرہ في ذاتہ ویبقی بذاتہ أو نحو ذٰلک مما یظنہ ہٰذا المعتقد من الخرافات۔

(حجۃ اللّٰہ البالغۃ للإمام الشاہ ولي اللّٰہ الدہلوي، ج:1 ص:144/ عقائد أہل السنۃ والجماعۃ 77)

وفی روح المعانی:

والشرک یکون بمعنی اعتقاد أن للّٰہ تعالی شانہ شریکا، أما في الألوہیۃ أو في الربوبیۃ۔

(روح المعاني ج:5ص:51)

وفی الموسوعہ الفقہیہ:

الشرک الأکبر وہو اتخاذ الشریک للّٰہ في الوہیتہ أو عبادتہ، وہو المراد بقولہ تعالی: {اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ}

(الموسوعۃ الفقہیۃ ج:5 ص:7)

وفی الدرالمختار مع ردالمحتار

والکفر لغۃ ستر وشرعا تکذیبہﷺ فی شیٔ مما جاء بہ من الدین ضرورۃ۔
وفی الشامیۃ تحتہ: المراد بالتکذیب عدم التصدیق الذی مرأی عدم الاذعان والقبول لماعلم مجیئہ بھا ضرورۃً ای علما ضروریا لایتوقف علی نظر واستدلال ……واما اذلم یبلغ حد الضرورۃ کاستحقاق بنت الابن السدس مع البنت باجماع المسلمین فظاھر کلام الحنفیۃ الاکفار بجحدہ۔

(شامیہ ج:4 ص:223)

کذا فی فتاویٰ بنوری تاؤن:
فتویٰ نمبر: 144003200184

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 935
kufur or shirk mai farq

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.