عنوان: بینک کے سود کا مصرف(105273-No)

سوال: مفتی صاحب ! بینک میں میرے پیسے رکھے ہوئے ہیں، ان پر اضافی پیسے بھی ملتے ہیں، کیا وہ اضافی پیسے جائز ہیں؟ اور اگر وہ اضافی پیسے جائز نہیں ہیں، تو کسی فقیر کو دیں تو ثواب ملے گا؟

جواب: واضح رہے کہ سودی بینک میں سودی اکاؤنٹ کھلوانا ناجائز ہے، اگر کسی نے لاعلمی میں کھلوالیا ہو، تو اسے چاہیے کہ صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرے اور سودی اکاؤنٹ بند کردے یا کرنٹ اکاؤنٹ میں تبدیل کردے، سودی رقم کے بارے میں حکم یہ ہے کہ کسی مستحقِ زکاۃ کو ثواب کی نیت کے بغیر دے دی جائے۔


واضح رہے کہ مذکورہ بالا تفصیل اس وقت ہے، جب لا علمی یا بھولے سے سودی رقم نکلوالی ہو، اور اس سے جان چھڑوانا مقصود ہو، جان بوجھ کر سودی رقم وصول کرنا، تاکہ غریبوں کو صدقہ کیا جاسکے، شرعاً جائز نہیں ہے، کیونکہ وصول کر کے صدقہ کرنا ایسا ہے، جیسے گناہ کر کے کفارہ کیا جائے، اس سے بہتر یہ ہے کہ شروع ہی سے گناہ نہ کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (آل عمران، الایة: 130)
یایھا الذین امنوا لا تاکلوا الربوا اضعافا مضاعفة....الخ

رد المحتار: (مَطْلَبٌ فِيمَنْ وَرِثَ مَالًا حَرَامًا، 99/5، ط: سعید)
"والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 627
bank kay sood kay masraf

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.