عنوان: زبان سے کلمہ کا اقرار کرنے سے پہلے مرگیا، تو کیا حکم ہے؟ (105278-No)

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس شخص کے بارے میں کہ جو اسلام کو قبول کرنے کی نیت سے کسی عالم کے پاس جائے، لیکن راستے میں اس کا انتقال ہوجائے، اور اس نے زبان سے کلمہ کا اقرار نہ کیا ہو، تو اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ ایسا شخص مسلمان شمار ہوگا یا کافر؟

جواب: صورت مسئولہ میں اگر اس شخص نے کسی کے سامنے اپنے اسلام لانے کا اقرار نہیں کیا، تو اس کو دنیاوی احکام میں مسلمان نہیں سمجھا جائے گا، کیونکہ دنیاوی احکام جاری ہونے کے لیے زبان سے اسلام کا اقرار کرنا شرط ہے، اور اگر کسی کے سامنے اس نے اسلام لانے کا اقرار کرلیا تھا، تو اس پر مسلمانوں والے احکام جاری ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی شرح المقاصد:

فان الاقرار حینئذ شرط لاجراء الأحکام علیہ فی الدنیا من الصلاة علیہ وخلفہ، والدفن فی مقابر المسلمین والمطالبة بالعشور والزکاوات ونحو ذٰلک۔”

(شرح المقاصد ج:2 ص:248 مطبوعہ دار المعارف النعمانیہ لاہور)

أن الإیمان ہو التصدیق بالقلب وانما الإقرار شرط لإجراء الأحکام فی الدنیا، لما ان تصدیق القلب امر باطنی لابد لہ من علامۃ۔

(شرح فقہ الاکبر ص:140 ط؍مطبوعہ رحیمیہ دیوبند)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 289
zubaan sai kalmay ka iqrar karne say pehle mar gaya to kia hukum hai?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com