عنوان: نابالغ کے گناہوں پر کوئی مواخذہ نہیں ہے (105290-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! اگر کوئی بچہ بلوغت سے پہلے گناہ کرے، تو کیا اس کے وہ گناہ بھی نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے یا نہیں؟

جواب: واضح رہے کہ بلوغت سے پہلے کے کیے گئے گناہوں پر کوئی مواخذہ نہیں ہے، بالغ ہونے کے بعد انسان جو گناہ کرتا ہے، وہ گناہ اس کے نامہ اعمال میں لکھے جاتے ہیں، اگر سچی توبہ کرلے، تو وہ بھی نامہ اعمال سے مٹا دیے جاتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الحدیث النبوی:

عن عائشۃ ان رسول اﷲ ﷺ قال رفع القلم عن ثلاثۃ عن النائم حتی یستقیظ و عن الصغیر حتی یکبر وعن المجنون حتی یعقل او یفیق۔

(ابنِ ماجہ ص:147 ابواب الطلاق)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 668
nabaligh kay gunahon par koi muakhaza nahi hai?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.