عنوان: 786 کی حقیقت (100054-No)

سوال: محترم مفتی صاحب ! 786 لکھنے سے بسم اللہ کی سنت ادا ہوگی یانہیں ؟ نیز اس کا لکھنا کیساہے؟ کیا 786 بسم اللہ الرحمن الرحیم کاعددہے ؟ مدلل ومفصل جواب عنایت فرمائیں نوازش ہو گی۔

جواب: واضح رہے کہ علم الاعداد کے اعتبار سے 786 بسم اللہ الرحمن الرحیم کا عدد ہے ، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
ب: 2 س: 60 م: 40 ا: 1 ل: 30 ل: 30 ہ: 5 ا: 1 ل: 30 ر: 200 ح: 8 م: 40 ن: 50 ا: 1 ل: 30 ر: 200 ح: 8 ی: 10 م: 40

پس ان تمام حروف کا عددی مجموعہ 786 بنتا ہے۔
رہی بات یہ کہ 786 لکھنا کیسا ہے ؟ اور اس کے لکھنے سے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے اور پڑھنے کا ثواب ملے گا یا نہیں ؟ تو اس سلسلہ میں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ 786 نہ یہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے اور نہ ہی اس کے قائم مقام یا بدل ہے ، بلکہ یہ کاتب کی جانب سے  ایک علامت ہے کہ اس نے ابتدا میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی ہے، لہذا قاری بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لے، پس 786 کو عین بسم اللہ سمجھنا  یا اس کے قائم مقام قرار دینا درست نہیں اور  نہ ہی 786 لکھنے سے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے کا ثواب ملتا ہے۔
البتہ علامت کے طور پر لکھنا درست ہے اور  قریبی سلف صالحین سے اس کا لکھنا ثابت بھی ہے، لہذا اسے غلط قرار دینا یا شرک و بدعت کا نام دینا بھی درست نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

المعجم الوسیط: (1/1، ط: دار الدعوۃ)
(أبجد) أولى الكلمات الست (أبجد هوز حطي كلمن سعفص قرشت) التي جمعت فيها حروف الهجاء بترتيبها عند الساميين قبل أن يرتبها نصر بن عاصم الليثي الترتيب المعروف الآن أما (ثخذ وضظغ) فحروفها من أبجدية اللغة العربية وتسمى الروادف وتستعمل الأبجدية في حساب الجمل على الوضع التالي أ ١ ب ٢ ج ٣ د ٤ ه ٥ و ٦ ز ٧ ح ٨ ط ٩ ي ١٠ ك ٢٠ ل ٣٠ م ٤٠ ن ٥٠ س ٦٠ ع ٧٠ ف ٨٠ ص ٩٠ ق ١٠٠ ر ٢٠٠ ش ٣٠٠ ت ٤٠٠ ث ٥٠٠ خ ٦٠٠ ذ ٧٠٠ ض ٨٠٠ ظ ٩٠٠ غ ١٠٠٠

فتاوی محمودیۃ: (340/3، ط: ادارۃ الفاروق)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 653
786 ki haqeeqat/hakeekat, what is 786?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.