عنوان: اسلامک بینک سے "وزیر اعظم ہاؤس سکیم" لینے کا معاملہ کرنا(105640-No)

سوال: مفتی صاحب ! موجودہ گورنمنٹ ایک ہاؤس اسکیم لون دے رہی ہے، اس میں واپسی پر آپ کو 5 سے 7 فیصد تک سود دینا ہوگا، اور یہ اسکیم صرف ان لوگوں کے لیے ہے، جن کے پاس پہلے مکان نہیں ہیں، کیا اپنا مکان بنانے کے لیے اس اسکیم کے تحت قرض لینا جائز ہے؟ نوٹ: یہ اسکیم میزان بینک اور دوسرے بینک شریعہ کمپلائنس کے ذریعے دے رہے ہیں۔

جواب: واضح رہے کہ اسلامک بینکنگ کیلئے مستند علماء کرام نے شریعت کے اصولوں کے مطابق ایک نظام تجویز کیا ہے، اور قانونی طور پر بھی اسلامی بینکوں پر اس نظام کی پابندی لازم ہے، لہذا جو غیر سودی بینک مستند علماء کرام کی نگرانی میں شرعی اصولوں کے مطابق معاملات سرانجام دے رہے ہیں، تو ان کے ساتھ معاملہ کرنے کی گنجائش ہے.

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1167
islamic banking say wazeer aazam scheme lene ka mamla karna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.