عنوان: کسی مشرک کیلیے دعائے مغفرت کرنے کا شرعی حکم(105661-No)

سوال: مفتی صاحب! کسی مشرک کے لیے دعاء مغفرت کرنا جائز ہے؟

جواب: کسی مشرک کے انتقال کے بعد اُس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِینَ آمَنُوا أَنْ یَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِینَ وَلَوْ کَانُوا أُولِی قُرْبَی
[التوبة: 113]

ترجمہ: یہ بات نہ تو نبی کو زیب دیتی ہے، اور نہ دوسرے مومنوں کو کہ وہ مشرکین کیلیے مغفرت کی دعا کریں، چاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، جبکہ ان پر یہ بات پوری طرح واضح ہوچکی ہے کہ وہ دوزخی لوگ ہیں۔ (آسان ترجمہ قرآن)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 737
kisi mushrik kay liye dua e maghfirat karne ka shar'ee hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com