سوال:
سوال یہ ہے کہ وضو کرنے کے بعد وضو کا پانی جو ہاتھوں اور چہرے پر لگا ہوتا ہے اس کو تولیہ وغیرہ کے ذریعے پونچھنا کیسا ہے؟ برائے مہربانی وضاحت فرما دیں، کیونکہ میں نے بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایسا کرنا مکروہ ہے۔
جواب: وضو کرنے کے بعد وضو کے پانی کو کپڑے وغیرہ کے ذریعے پونچھنا جائز ہے، لہذا لوگوں کا اس عمل کو مکروہ کہنا درست نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (363/6، ط: دار الفکر)
(لا) يكره (خرقة لوضوء) بالفتح بقية بلله
(قوله لا يكره خرقة إلخ) هذا هو ما صححه المتأخرون لتعامل المسلمين، وذكر في غاية البيان عن أبي عيسى الترمذي أنه لم يصح في هذا الباب شيء أي من كراهة أو غيرها؛ وقد رخص قوم من الصحابة ومن بعدهم التمندل بعد الوضوء، وتمامه فيه. ثم هذا في خارج الصلاة لما في البزازية، وتكره الصلاة مع الخرقة التي يمسح بها العرق، ويؤخذ بها المخاط لا لأنها نجسة، بل لأن المصلى معظم والصلاة عليها لا تعظيم فيها
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی