سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں اینڈرائیڈ موبائل گیمز بنا کر Google Play Store پر شائع کرنا چاہتا ہوں۔ گیم میں جوا، بیٹنگ، فحش مواد یا کسی حرام چیز کی تشہیر نہیں ہوگی، بلکہ صرف صاف ستھرا پزل/کار پارکنگ جیسا کھیل ہوگا۔ گیم میں موسیقی بھی شامل نہیں کی جائے گی۔ آمدنی Google AdMob کے اشتہارات اور ممکنہ طور پر Remove Ads یا دیگر جائز In-App Purchases سے ہوگی، جبکہ جہاں ممکن ہو حرام اشتہاری کیٹیگریز کو بلاک کیا جائے گا۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ ایسی گیم بنانا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی شرعاً حلال اور جائز ہے یا نہیں؟ نیز اگر اس میں کوئی شرعی احتیاط ضروری ہو تو اس کی بھی وضاحت فرما دیں۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر واقعتاً آپ ایسی گیمز بنانا چاہتے ہوں، جن میں مذکورہ امور اور ان کے علاوہ دیگر خلافِ شرع کاموں کا ارتکاب نہیں کیا جائے گا، اور گیمز بھی ایسی ہوں جن میں دماغی صلاحیت اور سوچ و فکر میں نکھار پیدا ہو تو ایسی گیمز بنانا اور ان پر حاصل ہونے والی آمدنی کو ناجائز یا حرام نہیں کہا جائے گا۔
تاہم انٹرنیٹ کے اس دور میں خاص طور پر نوجوان گیم کھیلنے کے جس قدر عادی ہوگئے ہیں، اور اس کے نتیجے میں وقت اور صلاحیتوں کا ضیاع ہورہا ہے، نیز ذہنی و جسمانی بیماریاں جس طرح عام ہورہی ہیں، وہ محتاجِ بیان نہیں ہے، لہٰذا اپنی قیمتی صلاحیتوں کو گیمز بنانے میں صرف کرنے کے بجائے دیگر مفید اور جائز پلیٹ فارمز میں صرف کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
تكملة فتح الملهم: (382/4، ط: دار إحياء التراث العربي)
فالضابط في هذا الباب - عند مشايخنا - المستفاد من أصولهم وأقوالهم أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح مفيد في المعاش ولا المعاد حرام، أو مكروه تحريماً. وهذا أمر مجمع عليه في الأمة، متفق عليه بين الأئمة، وما كان فيه غرض ومصلحة دينية أو دنيوية، فإن ورد النهي عنه من الكتاب أو السنة (كما في النردشير) كان حراماً، أو مكروهاً تحريماً، وألغيت تلك المصلحة والغرض المعارضتها للنهي المأثور، حكماً بأن ضرره أعظم من نفعه . وهذا أيضاً متفق عليه بين الأئمة، غير أنه لم يثبت النهي عند بعضهم فجوزه ورخص فيه، وثبت عند غيره فحرمه وكرهه، وذلك كالشطرنج، فإن النهي الوارد فيه متكلم فيه من جهة الرواية والنقل، فثبت عند الحنفية وعامة الفقهاء فكرهوه، ولم يثبت عند ابن المسيب وابن المغفل وفي رواية عند الشافعي أيضاً، فأباحوه.
وأما ما لم يرد فيه النهي عن الشارع، وفيه فائدة ومصلحة للناس، فهو بالنظر الفقهي على نوعين :
الأول: ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه، ومفاسده أغلب من منافعه، وأنه من اشتغل به ألهاء عن ذكر الله وحده وعن الصلوات والمساجد، التحق ذلك بالمنهي عنه، لاشتراك العلة، فكان حراماً أو مكروهاً .
والثاني : ما ليس كذلك، فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التلهي والتلاعب فهو مكروه، وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة، وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح بل قد يرتقي إلى درجة الاستحباب أو أعظم منه.
هذه خلاصة ما توصل إليه والدي الشيخ المفتي محمد شفيع في أحكام القرآن (3: 193201)
وعلى هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها، ما لم تشتمل على معصية أخرى، وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الإخلال بواجب الإنسان في دينه ودنياه، والله سبحانه أعلم.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی