سوال:
محترم مفتی صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
میری بیٹی کا نام زوہا (Zoha) ہے، تاریخِ پیدائش 9 نومبر 2022 ہے اور عمر 3 سال 9 ماہ ہے، میں جاننا چاہتی ہوں کہ زوہا نام کا معنی، اصل اور شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ نام رکھنا شرعاً درست اور بچی کے لیے بہتر ہے؟
میری بیٹی کو speech delay ہے، وہ بات سمجھتی ہے، eye contact اچھا ہے، نام پکارنے پر response کرتی ہے، بچوں کے ساتھ کھیلتی ہے، pretend play کرتی ہے اور pointing کے ذریعے اپنی ضرورت بتاتی ہے، Speech therapy بھی جاری ہے، اس کے علاوہ وہ ماضی میں کافی بیمار بھی رہ چکی ہے اور اس وقت بھی کچھ developmental/speech-related مسائل ہیں۔ انہی تمام وجوہات کی بنا پر ہمیں اس کے نام کے حوالے سے تشویش ہے اور ہم شرعی رہنمائی چاہتے ہیں کہ آیا نام تبدیل کرنا بہتر ہوگا یا نہیں؟ براہِ کرم یہ بھی بتائیں کہ کیا اس قسم کے مسائل کا نام سے کوئی شرعی تعلق ہو سکتا ہے؟
اگر زوہا نام رکھنا مناسب نہ ہو تو براہِ کرم دوسرے حروف سے کوئی اچھا، بامعنی اور شرعی طور پر مناسب نام بھی تجویز فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
جواب: واضح رہے کہ "زُوْہا" (زا پر پیش اور واؤ ساکن) ایک بے معنی لفظ ہے، البتہ اس سے ملتا جلتا عربی نام "ضُحیٰ" (ضاد پر پیش، حا پر زبر) ہے جس کے معنی "چاشت کا وقت، سورج اور بیان" کے ہیں، پوچھی گئی صورت میں اگر آپ چاہیں تو بچی کا نام صحیح عربی تلفظ کے ساتھ "ضُحیٰ" رکھ لیں یا پھر اس کے بجائے ازواج مطہرات اور صحابیات رضوان اللہ علیہن کی ناموں میں سے کسی کے نام پر یا کوئی اور اچھے معنی والا نام رکھ لیں۔
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب کوئی بُرے معنی والا نام آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تبدیل فرما لیتے تھے، البتہ "زُوْہا" نام میں ایسی کوئی قباحت یا برائی نہیں ہے جس کی وجہ سے اسے بچی کی بیماری، speech delay یا کسی دوسرے طبی مسئلے کا سبب سمجھا جائے، نام کا بچی کی بیماری یا تاخیر سے بولنے میں کوئی شرعی تعلق نہیں ہوتا، اس لیے اس بارے میں کسی وہم یا تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں، بچی کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ اس کا مناسب طبی معائنہ کروایا جائے اور ماہرین کے مشورے کے مطابق اس کی Speech Therapy اور دیگر ضروری علاج باقاعدگی سے جاری رکھا جائے، اللہ پاک آپ کی بیٹی کو صحت کاملہ عطا فرمائے۔ آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (418/6، ط: سعید)
وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغير الاسم القبيح إلى الحسن جاءه رجل يسمى أصرم فسماه زرعة وجاءه آخر اسمه المضطجع فسماه المنبعث، وكان لعمر رضي الله عنه بنت تسمى عاصية فسماها جميلة.
المنجد: (ص: 589، ط: دار الاشاعت)
الضحیٰ: چاشت کا وقت جب کہ سورج خوب چڑھ ایا ہو، سورج، بیان۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی