resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: کیا اسمائے حسنی میں سے "رقیب" کے شروع میں "عبد" لگانا ضروری ہے؟

(62568-No)

سوال: السلام علیکم! میرا قانونی نام "سہاب احمد" ہے، جو میرے تمام سرکاری دستاویزات، اسکول اور کالج کے ریکارڈ میں بھی درج ہے۔ اس کے علاوہ میرا ایک عرفی نام "رقیب" ہے، جو اللہ تعالیٰ کے 99 ناموں میں سے ایک نام ہے۔ میرے اہلِ خانہ اور دوست مجھے اسی عرفی نام سے پکارتے ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ چونکہ "رقیب" اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، تو کیا میرے لیے یہ ضروری ہے کہ لوگ مجھے مخاطب کرتے وقت اس نام سے پہلے "عبد" کا اضافہ کریں اور مجھے "عبدالرقیب" کہہ کر پکاریں؟ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام دو طرح کے ہیں:
1) وہ صفاتی نام جو صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہوں، کسی دوسرے پر اس کا استعمال نہ ہوتا ہو، جیسے: "الرحمن، الاَحَد، المتکبر، الصَمَد، الخَالِق اور الرَازِق وغیرہ۔ ایسے ناموں کو لفظ ’’عبد‘‘ کی اضافت کے بغیر کسی کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔
2) وہ صفاتی نام جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص نہ ہوں، بلکہ ان کا استعمال انسانوں پر بھی ان کے مناسب معنی کے اعتبار سے ہوتا ہو، جیسے" "سَمِیع (سننے والا) "بَصِیر" (دیکھنے والا)۔ ایسے ناموں کو لفظ ’’عبد‘‘ کی اضافت کے بغیر بھی استعمال کرنا جائز ہے۔
پوچھی گئی صورت میں لفظ ’’رَقِیب‘‘ کے مختلف معانی ہیں، اور یہ لفظ قرآن پاک میں نگہبان کے معنی میں فرشتے کے لیے بھی استعمال ہوا ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالی ہے: "﴿مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾" ترجمہ: "انسان کوئی لفظ زبان سے نہیں نکال پاتا، مگر اُس پر ایک نگراں مقرر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کے لیے ) تیار!" (سورہ ق، آیت نمبر: 18)
لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ نام اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ اس لیے ’’رَقِیب‘‘ نام ’’عبد‘‘ کی اضافت کےبغیر رکھنا اور پکارنا شرعاً جائز ہے۔

۔۔۔۔۔
دلائل

*تحفة المودود بأحكام المولود: (ص: 184، ط: عطاءات العلم)*
والمقصود: أنه لا يجوز لأحدٍ أن يتسمَّى بأسماء الله المختصَّةِ به.
وأمَّا الأسماءُ التي تُطلَق عليه وعلى غيره: كالسَّميع، والبَصير، والرَّؤوفِ، والرَّحيمِ، فيجوز أن يُخبر بمعانيها عن المخلوق، ولا يجوز أن يتسمَّى بها على الإطلاق بحيث يُطلَق عليه كما يُطلق على الربِّ تعالى.

*تفسير الطبري: (1/ 132، ط: دار هجر)*
وكان لله جل ذكره أسماء قد حرم على خلقه أن يتسموا بها، خص بها نفسه دونهم، وذلك مثل الله والرحمن والخالق، وأسماء أباح لهم أن يسمي بعضهم بعضا بها، وذلك كالرحيم والسميع والبصير والكريم وما أشبه ذلك من الأسماء.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Islamic Names