resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: طائف سے حدودِ حرم سے گذرے بغیر جدہ ائیرپورٹ جانے والے کے لئے احرام یا دم کا حکم

(58404-No)

سوال: مفتی صاحب! میں پاکستان سے عمرہ کے لیے آیا ہوا ہوں، میرا ارادہ ہے کہ واپسی والے دن پہلے طائف جاؤں، پھر وہاں سے سیدھا جدہ ایئرپورٹ چلا جاؤں اور وہں سے اپنے ملک پاکستان آجاؤں تو کیا شرعاً ایسا کرنا جائز ہے؟ ایسا کرنے سے عمرہ یا دم تو لازم نہیں ہوگا؟

جواب: واضح رہے کہ اگر آپ طائف جاکر واپسی میں حدودِ حرم کے باہر والے راستے سے براہِ راست جدہ ایئرپورٹ واپس آتے ہیں تو واپسی پر عمرے کا احرام باندھنا اور مکہ مکرمہ جاکر عمرہ کرنا ضروری نہیں، بلکہ آپ بلا احرام سیدھے جدّہ ایئرپورٹ جاسکتے ہیں۔
البتہ اگر واپسی میں مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ ہو، یا حدودِ حرم میں داخل ہوجائیں تو پھر میقات سے عمرے کا احرام باندھنا لازم ہوگا، اور مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ ادا کرنا ضروری ہوگا، کیونکہ آفاقی (یعنی میقات سے باہر رہنے والا شخص) جب میقات عبور کرکے حدودِ حرم میں داخل ہوتا ہے تو اس پر عمرہ واجب ہوجاتا ہے، چاہے وہ کسی بھی ارادہ سے حدودِ حرم میں داخل ہوا ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*حاشية ابن عابدين = رد المحتار -: (2/ 476، ط الحلبي)*
(وحرم تأخير الإحرام عنها) كلها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم (ولو لحاجة) غير الحج أما لو قصد موضعا من الحل كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام فإذا حل به التحق بأهله فله دخول مكة بلا إحرام وهو الحيلة لمريد ذلك إلا لمأمور بالحج للمخالفة.

*غنیة الناسک:(ص؛60، باب مجاوزة المیقات بغیر إحرام ، ط: إدارة القرآن)*
"آفاقي مسلم مکلف أراد دخول مکة أو الحرم ولو لتجارة أو سیاحة وجاوز آخر مواقیته غیر محرم ثم أحرم أولم یحرم أثم ولزمه دم وعلیه العود إلی میقاته الذي جاوزه أو إلی غیره أقرب أو أبعد ، وإلی میقاته الذي جاوزه أفضل، وعن أبي یوسف: إن کان الذي یرجع إلیه محاذیاً لمیقاته الذي جاوزه أو أبعد منه سقط الدم وإلا فلا، فإن لم یعد ولا عذر له أثم؛ لترکه العود الواجب."


(قوله: أي لآفاقي) أي ومن ألحق به کالحرمي والحلي إذا خرجا إلی المیقات کما یأتي، فتقییده بالآفاقي للاحتراز عما لو بقیا في مکانهما، فلایحرم، کما یأتي".

*النهر الفائق:( باب مجاوزة الميقات بغير إحرام، 152/2، ط. دار الكتب العلمية)*
"فلو دخل كوفي البستان) أي: مكان من الحل داخل الميقات (لحاجة) قصدها يعني: أن الدخول لهذا القصد (له دخول مكة بلا إحرام ووقته) أي: ميقاته البستان، نبه بهذا التفريغ على أن ما مر من لزوم الإحرام من الميقات إنما هو على من قصد أحد النسكين أو دخول مكة والحرم، فقصد مكة والحرم موجب له سواء قصد نسكاً أو لا أما إذا قصد مكاناً من الحل داخل الميقات فإنه يجوز له الدخول لالتحاقه بأهله سواء نوى الإقامة الشرعية فيه أو لا في ظاهر الرواية".

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage) & Umrah