سوال:
مفتی صاحب ! نیا لباس پہنتے ہوئے کون سی دعا پڑھنی چاہیے؟
جواب: (1) جب نیا کپڑا پہنے تو یہ دعائیں پڑھے:
الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي، وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي
ترجمہ:
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے مجھے وہ لباس پہنایا، جس سے میں اپنے ستر کو چھپاتا ہوں اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کرتا ہوں۔
(جامع الترمذی، حدیث نمبر: 3560)
فضیلت: اگر کوئی شخص نیا لباس پہننے کے بعد مذکورہ بالا دعا پڑھے، پھر اس کے بعد پرانے کپڑے کو صدقہ کردے تو وہ زندگی اور مرنے کے بعد اللہ کی حفاظت اور ذمہ میں آجاتا ہے۔
(2) رسول اللہ ﷺ جب کوئی نیا کپڑا حاصل کرتے تو اس کا نام لیتے، یعنی قمیص یا پگڑی وغیرہ اور یہ دعا پڑھتے :
اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ
ترجمہ: اے اللہ! تیری ہی تعریف ہے، تو نے مجھے یہ پہنایا ہے، میں تجھ سے اس کی خیر اور بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس بھلائی کا جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے، میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اس شر سے جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے۔ (سنن ابی داؤد: حدیث نمبر:4020)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن الترمذی: (رقم الحدیث: 3560، ط: دار الحدیث)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، المعنى واحد، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْأَصْبَغُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: لَبِسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَوْبًا جَدِيدًا، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ فَتَصَدَّقَ بِهِ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ فَتَصَدَّقَ بِهِ، كَانَ فِي كَنَفِ اللَّهِ وَفِي حِفْظِ اللَّهِ وَفِي سَتْرِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا.
سنن ابی داؤد: (كِتَابُ اللِّبَاسِ، بَابٌ مَا يَقُولُ إِذَا لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا، رقم الحدیث:4020، ط: دارالرسالة العلمیة)
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ, إِمَّا قَمِيصًا، أَوْ عِمَامَةً، ثُمَّ يَقُولُ: >اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ <. قَالَ أَبُو نَضْرَةَ: فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَبِسَ أَحَدُهُمْ ثَوْبًا جَدِيدًا, قِيلَ لَهُ: تُبْلَى وَيُخْلِفُ اللَّهُ تَعَالَى.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی