سوال:
محترم مفتی صاحب! ایک کاروباری شراکت کے متعلق شرعی رہنمائی مطلوب ہے، دو رشتہ داروں نے مل کر کاروبار شروع کیا، شریک اول نے تقریباً 30 سے 40 لاکھ روپے سرمایہ لگایا اور وہ کاروبار کا عملی طور پر کام کرنے والا شریک تھا، کاروبار کے تمام معاملات، خریداری، فروخت، ملازمین، سپلائرز، گاہکوں اور روزمرہ کے انتظامی امور وہ خود دیکھتا تھا، جبکہ شریک دوم نے تقریباً 60 سے 70 لاکھ روپے سرمایہ لگایا، وہ بیرونِ ملک رہتا تھا اور کاروبار کے روزمرہ معاملات میں عملی طور پر شریک نہیں تھا، وہ صرف سرمایہ لگانے والا شریک تھا۔
دونوں کے درمیان منافع کی تقسیم 50 فیصد 50 فیصد طے ہوئی تھی، لیکن نقصان کی تقسیم اور سرمائے کی واپسی کی ضمانت کے بارے میں کوئی الگ معاہدہ نہیں ہوا تھا، کچھ عرصے بعد کاروبار مسلسل نقصان میں چلنے لگا، شریک اول نے کاروبار کو بچانے اور جاری رکھنے کے لیے بہت کوشش کی اور کاروبار چلانے کے لیے مزید قرضے بھی لیے، جو مکمل طور پر کاروبار ہی میں استعمال ہوئے۔ اس کے باوجود کاروبار کامیاب نہ ہو سکا اور آخرکار کاروبار بند کرکے تمام اثاثے فروخت کر دیے گئے، اثاثے فروخت کرنے سے جو رقم حاصل ہوئی، وہ کاروبار کے قرضوں اور واجبات کی ادائیگی میں استعمال ہوگئی۔
نتیجتاً: شریک اول کا اپنا سرمایہ بھی مکمل طور پر ضائع ہوگیا، * شریک دوم کا سرمایہ بھی ضائع ہوگیا، کاروبار ختم ہونے کے بعد بھی کچھ قرضے باقی رہ گئے، جنہیں شریک اول اور اس کے خاندان والے اپنی ذاتی آمدنی سے آہستہ آہستہ ادا کر رہے ہیں۔
شریک اول کا کوئی دوسرا ذریعہ آمدن نہیں تھا، اس لیے وہ کاروبار کو مکمل وقت دیتا تھا اور اپنے گھر کے ضروری اخراجات کے لیے تقریباً 50 سے 70 ہزار روپے ماہانہ کاروبار سے استعمال کرتا تھا، اب اسے یاد نہیں کہ شروع میں اس حوالے سے کوئی باقاعدہ معاہدہ ہوا تھا یا اس کے لیے کوئی اجرت یا معاوضہ طے کیا گیا تھا۔
شریک اول کی طرف سے جان بوجھ کر کوئی دھوکہ دہی، خیانت یا بددیانتی نہیں ہوئی، تاہم یہ اس کی زندگی کا پہلا کاروبار تھا، اس لیے اب اسے یہ فکر ہے کہ کاروبار کے انتظام کے دوران شاید اس سے انجانے میں کوئی غلطی، کوتاہی یا غلط فیصلہ ہوا ہو، جس کی وجہ سے کاروبار کو نقصان پہنچا ہو۔
شریک اول کو اس بات کا بھی افسوس ہے کہ اس نے اپنے رشتہ دار، یعنی شریک دوم، کو اس کاروبار میں سرمایہ لگانے کی ترغیب دی تھی، لیکن کاروبار ناکام ہوگیا اور شریک دوم کا سرمایہ بھی ضائع ہوگیا۔
اب اگر مستقبل میں اللہ تعالیٰ شریک اول کو مالی وسعت عطا فرمائے تو وہ اپنی خوشی سے شریک دوم کو کچھ رقم دینا چاہتا ہے، تاکہ اگر اس سے جان بوجھ کر یا انجانے میں کوئی ایسی غلطی ہوئی ہو جس کی وجہ سے شریک دوم کو نقصان پہنچا ہو تو وہ اپنی آخرت کے حوالے سے مطمئن ہوسکے۔
براہِ کرم درج ذیل سوالات کے شرعی جوابات مرحمت فرمائیں:
1) کیا اس صورت میں شریک اول شرعاً شریک دوم کے ضائع شدہ سرمایہ کا ذاتی طور پر ذمہ دار یا ضامن ہے؟
2) چونکہ نقصان کی تقسیم کا تناسب پہلے سے طے نہیں کیا گیا تھا، تو شرعی طور پر کاروباری نقصان کس اصول کے مطابق تقسیم ہوگا؟
3) شرعی اعتبار سے کاروبار کا انتظام کرنے والے شریک کی کون سی غلطیاں یا کوتاہیاں ایسی شمار ہوں گی جن کی وجہ سے وہ دوسرے شریک کے نقصان کا ذمہ دار بن جاتا ہے؟
4) اگر شریک اول کو صرف شک اور احساسِ جرم ہو کہ شاید اس سے جان بوجھ کر یا انجانے میں کوئی غلطی ہوئی ہو، لیکن کوئی دھوکہ دہی، خیانت یا واضح بددیانتی ثابت نہ ہو، تو کیا محض اس احساس یا شک کی بنیاد پر وہ شرعاً ذمہ دار ہوگا؟
5) اگر شروع میں شریک اول کی اجرت یا معاوضہ طے نہیں ہوا تھا، تو کیا اس کا مکمل وقت کاروبار کو دینے کی وجہ سے اپنے گھریلو ضروری اخراجات کے لیے کاروبار سے رقم لینا شرعاً جائز تھا؟ اگر جائز نہیں تھا تو اس رقم کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
6) اگر شرعاً شریک اول، شریک دوم کے ضائع شدہ سرمایہ کا مقروض نہیں بنتا، تو کیا وہ بعد میں اپنی خوشی سے شریک دوم کو بطور ہدیہ، احسان یا مالی تعاون کچھ رقم دے سکتا ہے؟ اگر ہاں، تو کیا اس کی کوئی شرعی حد ہے یا وہ اپنی استطاعت کے مطابق جتنی رقم چاہے دے سکتا ہے؟
7) موجودہ حالات میں جبکہ شریک اول کاروبار کے باقی قرضے بھی اپنی جیب سے ادا کر رہا ہے، کیا اس پر لازم یا مستحب ہے کہ وہ مزید قرض لے کر شریک دوم کو بھی رقم ادا کرے؟
ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ کسی کا حق ضائع نہ ہو، اگر شرعاً شریک اول کے ذمے کوئی حق واجب ہے تو وہ اسے ادا کرنا چاہتا ہے، اور اگر کوئی حق واجب نہیں تو وہ محض احساسِ جرم یا شک کی وجہ سے اپنے اوپر ایسی ذمہ داری نہیں لینا چاہتا جو شریعت نے اس پر عائد نہیں کی۔ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں اس معاملے کی مکمل رہنمائی فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً کثیراً والسلام
جواب: 1) سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر واقعتاً شریکِ اول نے کاروبار میں ایسی کوئی کوتاہی نہیں کی، جس کو عام طور پر تاجروں کے ہاں کوتاہی سمجھا جاتا ہو، اور اس کے باوجود نقصان ہو گیا تو شریکِ اول، شریکِ دوم کے ضائع ہونے والے سرمائے کا شرعاً ضامن نہیں ہوگا۔
2) شرکت کے عقد میں نقصان تقسیم کرنے کے بارے میں شریعت نے یہ اصول بتایا ہے کہ ہر شریک اپنے لگائے ہوئے سرمائے کے تناسب سے نقصان برداشت کرے گا، اس سے کم یا زیادہ نقصان برداشت کرنے کی شرط لگانا درست نہیں، لہٰذا سوال میں پوچھی گئی صورت میں بھی دونوں شرکاء اپنے اپنے سرمائے کے تناسب سے نقصان برداشت کریں گے۔
3) شرعی اعتبار سے کسی شریک کے لیے مال شرکت میں ایسا کوئی کام کرنا جائز نہیں جس سے شرکت کے مال کو نقصان پہنچتا ہو، مثلاً: مشترکہ کاروبار کی رقم کسی کو قرض دینا یا ہبہ کرنا اور اسی طرح شریک کے لیے کوئی ایسا کام کرنا بھی درست نہیں جس کو تاجروں کے عرف میں کوتاہی سمجھا جاتا ہو، اگر کوئی شریک ایسا کام کرے تو اس کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا وہ خود ذمہ دار ہوگا۔
4) اگر کوئی شریک مکمل امانت داری کے ساتھ مشترکہ کاروبار چلاتا رہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی یا تعدی نہ کرے تو محض شک کی بنیاد پر اسے دوسرے شریک کے نقصان وغیرہ کا ذمہ دار نہیں قرار دیا جائے گا۔
5) سوال میں پوچھی گئی صورت میں پہلے سے طے کئے بغیر شریکِ اول کا ماہانہ معاوضہ یا اجرت لینا جائز نہیں تھا، اس لیے اسے گھریلو اخراجات کے لیے رقم وصول کرنے کا اختیار نہ تھا، بلکہ وہ نفع میں سے طے شدہ فیصدی تناسب (یعنی پچاس فیصد) میں سے وصول کر سکتا تھا، لیکن چونکہ کاروبار میں نقصان ہوا ہے، اس لیے اس نے جو رقم لی ہے، وہ رقم لینا اس کے لیے جائز نہ تھا اور جو رقم اس نے اجرت کے طور پر لی ہے، اس کی شرعی حیثیت قرض کی ہے، اور یہ قرض وہ مالِ شرکت میں واپس کر کے اس مال کی حد تک نقصان پورا کرے گا۔
6-7) جی ہاں، اگر شریکِ اول نے کوئی کوتاہی نہیں کی تو وہ شریکِ دوم کے ضائع شدہ سرمایہ کا مقروض نہیں بنتا، اسی لیے شریکِ دوم کو اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ وہ شریکِ اول سے رقم کا مطالبہ کرے، اسی طرح شریکِ اول کے ذمہ قرض لے کر شریک دوم کو رقم ادا کرنا لازم نہیں، البتہ شریکِ اول شریکِ دوم کو اپنی خوشی سے بطورِ ہدیہ یا احسان کچھ رقم دے سکتا ہے اور اس کے لیے کوئی مخصوص حد مقرر نہیں، بلکہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق جتنی رقم چاہے دے سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
المعايير الشرعية: (ص: 329، ط: AAOIFI)
ﺍﻷﺻﻞ ﺃﻥ ﻟﻜﻞ ﺷﺮﻳﻚ ﺣﻖ ﺍﻟﺘﺼﺮﻑ ﺑﺎﻟﺸﺮﺍﺀ ﻭﺍﻟﺒﻴﻊ ﺑﺎﻟﺜﻤﻦ ﺍﻟﺤﺎﻝ ﺃﻭ ﺍﻟﻤﺆﺟﻞ ﻭﺍﻟﻘﺒﺾ ﻭﺍﻟﺪﻓﻊ ﻭﺍﻹﻳﺪﺍﻉ ﻭﺍﻟﺮﻫﻦ ﻭﺍﻻﺭﺗﻬﺎﻥ ﻭﺍﻟﻤﻄﺎﻟﺒﺔ ﺑﺎﻟﺪﻳﻦ ﻭﺍﻹﻗﺮﺍﺭ ﺑﻪ ﻭﺍﻟﻤﺮﺍﻓﻌﺔ ﻭﺍﻟﻤﻘﺎﺿﺎﺓ ﻭﺍﻹﻗﺎﻟﺔ ﻭﺍﻟﺮﺩ ﺑﺎﻟﻌﻴﺐ ﻭﺍﻻﺳﺘﺌﺠﺎﺭ ﻭﺍﻟﺤﻮﺍﻟﺔ ﻭﺍﻻﺳﺘﻘﺮﺍﺽ ﻭﻛﻞ ﻣﺎ ﻫﻮ ﻣﻦ ﻣﺼﻠﺤﺔ ﺍﻟﺘﺠﺎﺭﺓ ﻭﺍﻟﻤﺘﻌﺎﺭﻑ ﻋﻠﻴﻪ. ﻭﻟﻴﺲ ﻟﻠﺸﺮﻳﻚ ﺍﻟﺘﺼﺮﻑ ﺑﻤﺎ ﻻ ﺗﻌﻮﺩ ﻣﻨﻔﻌﺘﻪ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﺸﺮﻛﺔ ﺃﻭ ﺑﻤﺎ ﻓﻴﻪ ﺿﺮﺭ ﻣﺜﻞ ﺍﻟﻬﺒﺔ ﺃﻭ ﺍﻹﻗﺮﺍﺽ ﺇﻻ ﺑﺈﺫﻥ ﺍﻟﺸﺮﻛﺎﺀ، ﺃﻭ ﺑﺎﻟﻤﺒﺎﻟﻎ ﺍﻟﻴﺴﻴﺮﺓ ﻭﻟﻠﻤﺪﺩ ﺍﻟﻘﺼﻴﺮﺓ ﺣﺴﺐ ﺍﻟﻌﺮﻑ.......لا ﻳﺠﻮﺯ ﺗﺨﺼﻴﺺ ﺃﺟﺮ ﻣﺤﺪﺩ ﻓﻲ ﻋﻘﺪ ﺍﻟﺸﺮﻛﺔ ﻟﻤﻦ ﻳﺴﺘﻌﺎﻥ ﺑﻪ ﻣﻦ ﺍﻟﺸﺮﻛﺎﺀ ﻓﻲ ﺍﻹﺩﺍﺭﺓ ﺃﻭ ﻓﻲ ﻣﻬﻤﺎﺕ ﺃﺧﺮ ﻣﺜﻞ ﺍﻟﻤﺤﺎﺳﺒﺔ، ﻭﻟﻜﻦ ﻳﺠﻮﺯ ﺯﻳﺎﺩﺓ ﻧﺼﻴﺒﻪ ﻣﻦ ﺍﻷﺭﺑﺎﺡ ﻋﻠﻰ ﺣﺼﺘﻪ ﻓﻲ ﺍﻟﺸﺮﻛﺔ.
و فيه أيضا: (ص: 333، ط: AAOIFI)
يجوز توزيع مبالغ تحت الحساب، قبل التنضيض الحقيقي أو الحكمي، علی أن تتم التسوية لاحقا مع الالتزام بردّ الزيادة عن المقدار المستحق فعلا بعد التنضيض الحقيقي أو الحكمي.
بدائع الصنائع: (62/6، ط: سعيد)
والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی