سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! محترم مفتی صاحب! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میرا سوال یہ ہے کہ عامر نے طاہر کو دس لاکھ روپے سونے کی خرید و فروخت (Gold Trading) کے کاروبار کے لیے دیے۔ طاہر رقم لینے والے کو ماہانہ 20 فیصد منافع دیتا ہے، جس میں سے 10 فیصد وہ خود رکھتا ہے اور 10 فیصد رقم دینے والے کو دیتا ہے، یعنی منافع دونوں آپس میں آدھا آدھا تقسیم کرتے ہیں، لیکن نقصان کی صورت میں رقم دینے والا نقصان میں شریک نہیں ہوتا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس طرح کا معاملہ شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ اگر ناجائز ہے تو شریعت کی روشنی میں اس کی جائز صورت کیا ہوسکتی ہے؟ جزاکم اللہ خیراً
جواب: سوال میں پوچھی گئی صورت کے مطابق معاملہ کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ کاروباری شراکت میں نفع کے ساتھ ساتھ نقصان میں (حسب سرمایہ) شراکت بھی شرعاً ضروری ہے، جبکہ اس صورت میں سرمایہ دینے والا نفع میں تو شریک ہو رہا ہے، لیکن نقصان میں شریک نہ ہونے کی شرط لگائی گئی ہے جو کہ جائز نہیں ہے، اس کی وجہ سے یہ معاملہ فاسد ہورہا ہے، لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔
اس کی جائز متبادل صورت یہ ہے کہ مضاربت یا شرکت کی بنیاد پر معاملہ کیا جائے۔ مضاربت کی صورت میں ایک فریق کا سرمایہ اور دوسرے کی محنت ہوگی۔ نفع کی تقسیم کیلئے باہمی رضامندی سے کوئی فیصدی تناسب طے کیا جاسکتا ہے، جبکہ نقصان کی صورت میں (اگر فریق دوم کی غفلت و کوتاہی کے بغیر نقصان ہوا ہو تو) نقصان سرمایہ لگانے والا برداشت کرے گا، دوسرے فریق کی محنت ضایع ہوجائے گی۔
شرکت کی صورت میں دونوں فریقین کا سرمایہ شامل ہوگا، دونوں کے سرمایہ کا تناسب فریقین کو معلوم ہونا شرعاً ضروری ہے۔ نفع نقصان طے کرنے کا شرعی اصول یہ ہے کہ جو شریک عملی طور پر کاروبار کیلئے کام نہیں کرے گا، اس کے لیے اس کے سرمایہ کے بقدر یا اس سے کم نفع کا تناسب طے کیا جاسکتا ہے، سرمایہ کے تناسب سے زیادہ اس کیلئے شرح منافع طے کرنا شرعاً درست نہیں ہوگا، جبکہ محنت کرنے والا شریک اپنے سرمایہ کے تناسب سے زیادہ منافع لے سکتا ہے۔
کاروبار میں نقصان کی صورت میں فریقین اپنے اپنے سرمایہ کے تناسب سے نقصان برداشت کریں گے۔
ان دونوں صورتوں میں سے کوئی ایک صورت اختیار کی جائے تو یہ معاملہ جائز ہوگا، بشرطیکہ کاروبار کے ناجائز ہونے کی کوئی اور وجہ نہ پائی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*
*الهداية شرح بداية المبتدي (370/3، ط: البشری):*
وكل شرط يوجب جهالة في الربح يفسده لاختلال مقصوده، وغير ذلك من الشروط الفاسدة لا يفسدها، ويبطل الشرط كاشتراط الوضيعة على المضارب.
*الدر المختار مع رد المحتار: (656/5، ط: سعید)*
(وما هلك من مال المضاربة يصرف إلى الربح) ؛ لأنه تبع (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن) ولو فاسدة من عمله؛ لأنه أمين (وإن قسم الربح وبقيت المضاربة ثم هلك المال أو بعضه ترادا الربح ليأخذ المالك رأس المال وما فضل بينهما، وإن نقص لم يضمن).
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص، كراچی