resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: سفر کے احکام کا اطلاق آبادی سے نکلنے کے بعد ہوگا

(60454-No)

سوال: سوال یہ ہے کہ انشاء سفر کا تحقق صرف سفر کے ارادہ سے چل پڑے تو ہوجائے گا یا وطن اصلی کی طرح اس آبادی سے نکلنا ضروری ہے؟
وطن سکنی کے متعلق صورت مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ایک شخص اپنے گھر سے پچاس کیلو میٹر دور ایک شہر میں تین دن کے لئے مقیم ہے، پھر اچانک اس کو وہاں سے دو سو کیلو میٹر دور جانے کی ضرورت پیش آئی تو صرف چل پڑنے کے بعد شہر سے نکلنے سے پہلے ہی نماز کی نوبت آئے تو قصر کرے گا یا إتمام؟

جواب: انشائے سفر کا تحقق آبادی سے نکلنے کے بعد ہوتا ہے، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں اگر ایک شخص اپنے گھر سے پچاس کلومیٹر دور مقیم ہے تو وہ مقیم ہی کے حکم میں ہے، گویا اپنے وطن اصلی میں ہی ہے، جب یہاں سے مسافت سفر کے ارادے سے نکلے گا تو آبادی سے نکلنے کے بعد اس پر مسافر کا اطلاق ہوگا، اور اس کے لیے قصر کرنا جائز ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*المبسوط للسرخسي: (1/ 236، ط: دار المعرفة)*
فإذا قصد مسيرة ثلاثة أيام قصر الصلاة حين تخلف عمران المصر؛ لأنه مادام في المصر فهو ناوي السفر لا مسافر، فإذا جاوز عمران المصر صار مسافرا لاقتران النية بعمل السفر، والأصل فيه حديث علي رضي الله تعالى عنه حين خرج من البصرة يريد الكوفة صلى الظهر أربعا ثم نظر إلى خص أمامه فقال: لو جاوزنا ذلك الخص صلينا ركعتين.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)