resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: نماز میں خشوع و خضوع اور اطمینان پیدا کرنے کا طریقہ

(60521-No)

سوال: مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ میری کوشش ہوتی ہے کہ نماز میں مکمل توجہ ہو، تلاوت، تسبیحات، قیام اور سجدہ وغیرہ اچھی طرح ادا کروں، لیکن جب نماز ختم کرتی ہوں یا آخری رکعت میں پہنچتی ہوں تو سمجھ نہیں آتا کہ میں نے نماز کس طرح ادا کی۔ دل میں خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنے کی خواہش ہوتی ہے، لیکن ہر نماز میں محسوس ہوتا ہے کہ اس میں کمی رہ گئی ہے۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ ایسا کون سا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے ہم اپنی نماز درست طریقے سے ادا کر سکیں، نماز میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کو اطمینان بھی حاصل ہو؟

جواب: نماز کے دوران کبھی مختلف خیالات ذہن کو اپنی طرف متوجہ کرلیتے ہیں، جس کی وجہ سے نماز کی طرف توجہ نہی رہتی، لہذا نماز کے دوران جب خیالات آجائیں تو حتی الامکان دل و دماغ کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے، البتہ محض خیالات کے آنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
نماز میں خشوع اور خضوع پیدا کرنے کے لیے نماز شروع کرنے سے پہلے اپنے دل میں یہ احساس پیدا کریں کہ میں اپنے رب کے سامنے کھڑی ہوں اور اس سے مناجات کر رہی ہوں، نماز میں پڑھے جانے والے اذکار اور تلاوت کے معانی پر غور کرنے کی کوشش کریں اور ہر رکن کو سکون و اطمینان کے ساتھ ادا کریں اور ہر نماز کو اپنی زندگی کی آخری نماز سمجھ کر پڑھیں، اگر دورانِ نماز توجہ بھٹک جائے تو اپنی توجہ دوبارہ نماز کی طرف لے آئیں۔
اگر پوری کوشش کے باوجود ہر نماز میں مطلوبہ یکسوئی اور خشوع پیدا نہ ہو سکے، لیکن نماز کے فرائض و واجبات صحیح طور پر ادا کیے گئے ہوں تو ان شاء اللہ نماز ادا ہوجائے گی۔ خشوع و خضوع ایسی کیفیت ہے جو مسلسل مشق، توجہ اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے سے بتدریج پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے مایوس ہونے کے بجائے نماز میں دل کی حاضری کی کوشش اور مشق جاری رکھیں اور اللہ تعالیٰ سے خشوع و خضوع کی دعا بھی کرتے رہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الکریم: (المومنون، الایة: 2،1)*
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَo الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَo

*صحیح مسلم: (كتاب الطهارة، باب فضل الوضوء والصلاة عقبه، رقم الحدیث:228، دار احیاء التراث العربي)*
حدثنا إسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص ، حدثني ابي ، عن ابيه ، قال: " كنت عند عثمان فدعا بطهور، فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: ما من امرئ مسلم، تحضره صلاة مكتوبة، فيحسن وضوءها، وخشوعها، وركوعها، إلا كانت كفارة لما قبلها من الذنوب، ما لم يؤت كبيرة، وذلك الدهر كله ".

*سنن ابن ماجه: (كتاب الزهد، باب الحكمة، رقم الحدیث: 4171، ط: دار الجیل)*
عن ابي ايوب قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله علمني واوجز قال:" إذا قمت في صلاتك فصل صلاة مودع ولا تكلم بكلام تعتذر منه واجمع الياس عما في ايدي الناس".

*فیض القدیر:(حرف المیم، 472/5،ط:المكتبة التجارية الكبرى - مصر)*
"(فيحسن وضوءها وخشوعها وركوعها) أي وسائر أركانها بأن أتى بكل من ذلك على أكمل هيئاته من فرض وسنة قال القاضي: إحسان الوضوء الإتيان بفرائضه وسننه وخشوع الصلاة الإخبات فيها بانكسار الجوارح وإخباتها أن تأتي بكل ركن على وجه أكثر تواضعا وخضوعا وتخصيص الركوع بالذكر تنبيه على إنافته على غيره وتحريض عليه فإنه من خصائص صلاة المسلمين."

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)