resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: اذان کی آواز مارکیٹ تک پہنچنے میں دشواری کی وجہ سے لوگوں کی یاد دہانی کے لیے سپیکر کے ذریعے اذان کی ریکارڈنگ چلانا

(60471-No)

سوال: رہنمائی درکار ہے کہ ایک مارکیٹ میں مسجد سے اذان کی آواز پہنچنے میں کچھ مشکلات ہیں، اس لیے مارکیٹ والوں نے مسجد کی اذان کے اوقات میں اسپیکر لگا کر اذان کی ریکارڈنگ چلانے کا انتظام کیا ہے، تاکہ مصروف حضرات کو نماز کی یاد دہانی ہوسکے۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ واضح رہے کہ یہ حضرات نماز اسی مسجد میں جاکر ادا کرتے ہیں، جہاں سے اذان کی آواز مارکیٹ تک پہنچنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں نماز کا شوق اور اس کی طرف دھیان اس قدر ہونا چاہیے کہ کاروبار وغیرہ میں مصروفیت کے باوجود نماز کا وقت ہوتے ہی ہر شخص نماز کی طرف متوجہ ہو کر فوراً مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی کے لیے روانہ ہو جائے، یہی ایک مسلمان کے شایانِ شان ہے۔
تاہم اگر واقعی مارکیٹ میں لوگوں کو اذان کی آواز پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہو اور لوگوں کو نماز کی طرف یاد دہانی کے لیے ضرورت محسوس ہو رہی ہو تو ایسی صورت میں یاد دہانی کے لیے اذان کی ریکارڈنگ چلانے کے بجائے مقامی زبان میں اعلان کا طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے، البتہ اس کو عادت نہیں بنانا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (389/1، ط: دار الفكر)
(ويثوب) بين الأذان والإقامة في الكل للكل بما تعارفوه. (قوله: في الكل) أي كل الصلوات لظهور التواني في الأمور الدينية. قال في العناية: أحدث المتأخرون التثويب بين الأذان والإقامة على حسب ما تعارفوه في جميع الصلوات سوى المغرب مع إبقاء الأول يعني الأصل وهو تثويب الفجر وما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن. اه. (قوله: للكل) أي كل أحد، وخصه أبو يوسف بمن يشتغل بمصالح العامة كالقاضي والمفتي والمدرس واختاره قاضي خان وغيره نهر. (قوله: بما تعارفوه) كتنحنح، أو قامت قامت، أو الصلاة الصلاة، ولو أحدثوا إعلاما مخالفا لذلك جاز نهر عن المجتبى.

فتاویٰ حقانیه: (53/3، ط: جامعه دار العلوم حقانیه)

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)