سوال:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم مفتی صاحب!
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ حضرات خیر و عافیت سے ہوں اور دینِ اسلام کی خدمت میں آپ کی مساعی کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔
بعد از سلام، مؤدبانہ گزارش ہے کہ ایک شرعی مسئلے میں آپ کی رہنمائی اور فتویٰ مطلوب ہے۔ عرض یہ ہے کہ ہمارا تعلق ایبٹ آباد سے ہے۔ الحمد للہ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمارے مرکز میں ایک دعوتی و تبلیغی اجتماع منعقد ہو رہا ہے۔ اجتماع کی تمام سرگرمیاں مرکز ہی میں ہوں گی۔ مرکز میں جگہ اگرچہ موجود ہے، لیکن شرکاء کی کثرت کے پیشِ نظر اندیشہ ہے کہ مسجد کے اندر تمام حاضرین نماز میں شریک نہ ہو سکیں گے۔
اسی ضرورت کے پیشِ نظر یہ تجویز دی گئی ہے کہ نماز کی امامت مسجد کے ساتھ متصل مرکز کی پارکنگ میں کرائی جائے۔ یہ پارکنگ تین منزلہ ہے اور مسجد سے ملی ہوئی ہے۔ امام صاحب پارکنگ کے حصے میں کھڑے ہوں، جبکہ مقتدیوں کی صفیں پارکنگ میں بھی ہوں اور مسجد کے اندر بھی، یعنی کچھ مقتدی امام کے پیچھے پارکنگ میں ہوں اور کچھ مسجد کے اندر نماز ادا کریں۔
اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ: کیا ایسی صورت میں، جبکہ امام مسجد کے بجائے مسجد سے متصل پارکنگ میں کھڑا ہو اور مقتدیوں کی بعض صفیں مسجد کے اندر اور بعض باہر ہوں، سب کی اقتدا اور نماز شرعاً درست ہوگی؟ کیا اس سے مسجد کے اندر نماز ادا کرنے والوں کی نماز یا اقتدا پر کوئی اثر پڑے گا؟
واضح رہے کہ اس تجویز کا مقصد صرف یہ ہے کہ شرکاء کی کثرت کی وجہ سے کوئی شخص جماعت کی نماز سے محروم نہ رہے، اور تمام حاضرین باجماعت نماز ادا کر سکیں۔ قرآن و سنت، فقہِ حنفی اور اکابر فقہاء کی تصریحات کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت اور رہنمائی فرما دیں تاکہ ہم شرعی حکم کے مطابق عمل کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ فقط والسلام
جواب: پوچھی گئی صورت میں چونکہ اجتماع کی وجہ سے نمازیوں کی تعداد زیادہ ہے اور مسجد میں جگہ ناکافی ہونے کا قوی اندیشہ ہے، اس لیے فقہِ حنفی کے مطابق اس ضرورت کے پیشِ نظر امام کا مسجد سے متصل پارکنگ میں کھڑے ہو کر امامت کرانا بلا کراہت جائز ہے، بشرطیکہ چند بنیادی شرائط کی رعایت کی جائے:
(1) کوئی مقتدی امام سے آگے یعنی قبلہ کی جانب زیادہ قریب نہ کھڑا ہو، کیونکہ مقتدی کا امام سے آگے ہونا اس کی نماز کے فساد کا سبب بنتا ہے۔
(2) مسجد اور پارکنگ کے درمیان صفوں کا اتصال برقرار رہے، یعنی درمیان میں دو صفوں کے برابر یا اس سے زیادہ خالی جگہ یا ایسی عام شاہراہ نہ ہو جس پر آمد و رفت ہوتی ہو، جبکہ آپ کی بیان کردہ صورت میں پارکنگ مسجد سے متصل ہے، اس لیے صفیں ملا کر کھڑے ہونے سے یہ شرط پوری ہو جائے گی۔
(3) تمام مقتدیوں تک امام کے انتقالات کا علم پہنچتا رہے، خواہ امام کی آواز براہِ راست یا لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے پہنچ رہی ہو یا امام یا اگلی صفوں کی حرکات نظر آ رہی ہوں، تاکہ صحیح طور پر اقتدا ممکن ہو۔
مذکورہ شرائط کی مکمل رعایت کے ساتھ بضرورت امام کا مسجد سے متصل پارکنگ میں کھڑے ہو کر جماعت کرانا جائز ہے اور مسجد کے اندر، پارکنگ میں، نیز اس کی مختلف منزلوں پر موجود تمام مقتدیوں کی نماز شرعاً درست ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار: (كتاب الصلاة، ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، 646/1، ط: دار الفكر- بيروت)
(وانفراد الامام على الدكان... وكره عكسه في الاصح، وهذا كله عند عدم العذر كجمعة وعيد، فلو قاموا على الرفوف والامام على الارض أو في المحراب لضيق المكان، لم يكره لو كان معه بعض القوم في الاصح، وبه جرت العادة في جوامع المسلمين، ومن العذر إرادة التعليم أو التبليغ)
الفتاوى الهندية: (كتاب الصلاة، ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، 109/1، ط: دار الفكر)
(وَفِنَاءُ الْمَسْجِدِ لَهُ حُكْمُ الْمَسْجِدِ حَتَّى لَوْ قَامَ فِي فِنَاءِ الْمَسْجِدِ وَاقْتَدَى بِالْإِمَامِ صَحَّ اقْتِدَاؤُهُ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ الصُّفُوفُ مُتَّصِلَةً وَلَا الْمَسْجِدُ مَلْآنَ)
بدائع الصنائع: (كتاب الصلاة، صفة الصلاة، 146/1، ط: دار الكتب العلمية)
(وَلَوْ اقْتَدَى خَارِجَ الْمَسْجِدِ بِإِمَامٍ فِي الْمَسْجِدِ: إنْ كَانَتْ الصُّفُوفُ مُتَّصِلَةً جَازَ، وَإِلَّا فَلَا؛ لِأَنَّ ذَلِكَ الْمَوْضِعَ بِحُكْمِ اتِّصَالِ الصُّفُوفِ يَلْتَحِقُ بِالْمَسْجِدِ)
بدائع الصنائع: (كتاب الصلاة، صفة الصلاة، 144/1، ط: دار الكتب العلمية)
(وَمِنْهَا - أَنْ لَا يَكُونَ الْمُقْتَدِي عِنْدَ الِاقْتِدَاءِ مُتَقَدِّمًا عَلَى إمَامِهِ عِنْدَنَا)
رد المحتار: (كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، 420/1، ط: دار الفكر-بيروت)
(وَعَدَمُ تَقَدُّمِهِ عَلَيْهِ أَيْ بِالْعَقِبِ، فَيَصْدُقُ بِمَا لَوْ حَاذَاهُ أَوْ تَأَخَّرَ عَنْهُ وَإِلَّا فَسَدَتْ)
بدائع الصنائع: (كتاب الصلاة، صفة الصلاة، 146/1 ط: دار الكتب العلمية)
(فَأَمَّا إذَا كَانَ يُصَلِّي فِي الصَّحْرَاءِ: فَإِنْ كَانَتْ الْفُرْجَةُ الَّتِي بَيْنَ الْإِمَامِ وَالْقَوْمِ قَدْرَ الصَّفَّيْنِ فَصَاعِدًا - لَا يَجُوزُ اقْتِدَاؤُهُمْ بِهِ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الطَّرِيقِ الْعَامِّ أَوْ النَّهْرِ الْعَظِيمِ فَيُوجِبُ اخْتِلَافَ الْمَكَانِ)
فتاویٰ قاضی خان: (كتاب الصلاة، صفة الصلاة، 88/1، ط: المطبعة الكبرى الأميرية، بولاق)
(وإن كان بين الإمام والمقتدي طريق إن كان ضيقاً لا تمر فيه العجلة والأوقار لا يمنع الاقتداء، وإن كان واسعاً تمر فيه العجلة والأوقار يمنع)
فتاویٰ قاضی خان: (كتاب الصلاة، صفة الصلاة، 89/1، ط: المطبعة الكبرى الأميرية، بولاق)
(العبرة في هذه الاشتباه حال الإمام وعدم اشتباهه لا للتمكن من الوصول إلى الإمام لأن الاقتداء متابعة ومع الاشتباه لا يمكنه المتابعة... ولو قام على سطح المسجد واقتدى بإمام في المسجد فهو على هذا التفصيل أيضاً... إن لم يكن له باب في المسجد ولكن لا يشتبه عليه حال الإمام صح الاقتداء أيضاً، وإن اشتبه عليه حال الإمام لا يصح.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی