سوال:
آج کل کثیر المنزلہ عمارتوں، دفاتر اور کاروباری مراکز میں عموماً گراؤنڈ فلور یا کسی مخصوص جگہ پر نماز کے لیے ایک جگہ مختص کر دی جاتی ہے۔ وہاں ملازمین یا رہائشی باقاعدگی سے نماز ادا کرتے ہیں، بعض جگہوں پر یہ جگہ عارضی نہیں ہوتی، بلکہ عمارت کی تعمیر کے وقت ہی اسے نماز کے لیے باقاعدہ طور پر مخصوص اور ڈیزائن کیا جاتا ہے اور بظاہر وہ ایک مستقل مسجد یا نماز ہال کی طرح نظر آتی ہے، اکثر اوقات درج ذیل وجوہات کی بنا پر وہاں پہلی جماعت کے بعد دوسری جماعت قائم کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے:
۱) شدید رش ہونا، جس کی وجہ سے تمام افراد ایک وقت میں نماز کی جگہ میں نہ سما سکیں۔
۲) دفتری کاموں اور ضروری امور میں تاخیر ہوجانا، جس کی وجہ سے بعض افراد پہلی جماعت میں شریک نہ ہوسکیں۔
۳) انفرادی یا ذاتی کمزوری، سستی وغیرہ کی وجہ سے پہلی جماعت رہ جانا۔
اس پس منظر میں درج ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
۱) ایسی جگہوں پر پہلی جماعت کے بعد مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر دوسری جماعت قائم کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا دوسری جماعت قائم کرنا جائز ہے یا مکروہ؟
۲) اگر کسی عمارت کے اندر کوئی جگہ باقاعدہ طور پر نماز ہی کے لیے مستقل بنیادوں پر تعمیر کی گئی ہو تو کیا محض اس کی مستقل بناوٹ یا انتظامیہ کی جانب سے اسے نماز کے لیے مخصوص کردینے سے وہ شرعی مسجد کے حکم میں آجاتی ہے؟
۳) شرعی نقطۂ نظر سے "شرعی مسجد" اور "مُصَلّٰی" (نماز کے ہال) میں کیا واضح فرق ہے؟ کسی عمارت کے اندر قائم ایسی جگہ کے بارے میں کیسے متعین کیا جائے کہ وہ مسجد کے حکم میں ہے یا صرف مصلیٰ کے حکم میں؟ براہِ کرم قرآن و حدیث اور فقہی اصولوں کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔
جواب: واضح رہے کہ کسی جگہ کے شرعی مسجد بننے کے لیے چند شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:
(1) زمین کے مالک نے اپنی زمین کو مسجد کے لیے وقف کیا ہو۔
(2) وقف کرنے والے نے اس زمین کو اپنی ملکیت سے اس طرح جدا کرکے وقف کیا ہو کہ آئندہ اس کا یا کسی اور کا اس زمین میں کوئی حقِ ملکیت باقی نہ رہے۔
(3) وقف کرنے والے نے اس کو متولی کے سپرد کر دیا ہو یا اس کی اجازت سے کم از کم ایک مرتبہ اس جگہ باجماعت نماز ادا کر لی گئی ہو۔
لہٰذا جس جگہ مذکورہ شرائط نہ پائی جائیں، وہ جگہ شرعی مسجد کے حکم میں نہیں ہوگی، بلکہ محض نماز کے لیے مخصوص کردہ جگہ یا مصلّٰی ہوگی اور ایسی جگہ دوسری جماعت کروانا بلاکراہت جائز ہوگا۔
جہاں تک مسجد شرعی میں دوسری جماعت کا تعلق ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر مسجد کسی محلے میں واقع ہو، اس کے امام و مؤذن مقرر ہوں اور ہر نماز میں مقتدی بھی متعین ہوں تو ایسی مسجد میں دوسری جماعت کروانا مکروہِ تحریمی ہے۔
البتہ اگر مسجد کسی شاہراہ پر ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے ہوئے راستے میں واقع ہو، مثلاً: پٹرول پمپ وغیرہ پر بنائی گئی مسجد، جہاں کثرت سے مقتدیوں میں تبدیلی واقع ہوتی ہو تو ایسی مسجد میں دوسری جماعت کروانا جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الدر المختار مع رد المحتار: (552/1)*
'ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن۔
(قوله: ويكره) أي تحريماً؛ لقول الكافي: لا يجوز، والمجمع: لا يباح، وشرح الجامع الصغير: إنه بدعة، كما في رسالة السندي، (قوله: بأذان وإقامة إلخ) عبارته في الخزائن: أجمع مما هنا ونصها: يكره تكرار الجماعة في مسجد محلة بأذان وإقامة، إلا إذا صلى بهما فيه أولا غير أهله، لو أهله لكن بمخافتة الأذان، ولو كرر أهله بدونهما أو كان مسجد طريق جاز إجماعا؛ كما في مسجد ليس له إمام ولا مؤذن ويصلي الناس فيه فوجاً فوجاً، فإن الأفضل أن يصلي كل فريق بأذان وإقامة على حدة، كما في أمالي قاضي خان اه ونحوه في الدرر، والمراد بمسجد المحلة ما له إمام وجماعة معلومون، كما في الدرر وغيرها. قال في المنبع: والتقييد بالمسجد المختص بالمحلة احتراز من الشارع، وبالأذان الثاني احتراز عما إذا صلى في مسجد المحلة جماعة بغير أذان حيث يباح إجماعاً. اه. ثم قال فيپ الاستدلال على الإمام الشافعي النافي للكراهة ما نصه: ولنا «أنه عليه الصلاة والسلام كان خرج ليصلح بين قوم فعاد إلى المسجد وقد صلى أهل المسجد فرجع إلى منزله فجمع أهله وصلى»، ولو جاز ذلك لما اختار الصلاة في بيته على الجماعة في المسجد ولأن في الإطلاق هكذا تقليل الجماعة معنى، فإنهم لا يجتمعون إذا علموا أنهم لا تفوتهم.
وأما مسجد الشارع فالناس فيه سواء لا اختصاص له بفريق دون فريق اه ومثله في البدائع وغيرها، ومقتضى هذا الاستدلال كراهة التكرار في مسجد المحلة ولو بدون أذان؛ ويؤيده ما في الظهيرية: لو دخل جماعة المسجد بعد ما صلى فيه أهله يصلون وحداناً، وهو ظاهر الرواية اه وهذا مخالف لحكاية الإجماع المارة ··· وقدمنا في باب الأذان عن آخر شرح المنية عن أبي يوسف أنه إذا لم تكن الجماعة على الهيئة الأولى لا تكره وإلا تكره، وهو الصحيح، وبالعدول عن المحراب تختلف الهيئة، كذا في البزازية انتهى. وفي التتارخانية عن الولوالجية: وبه نأخذ.
*المحیط البرہانی: (351/1، ط: دار الکتب العلمیہ)*
قال القدوري في «كتابه» : وإن كان المسجد على قارعة الطريق ليس له قوم معينين، فلا بأس بتكرار الجماعة فيه؛ لأن تكرار الجماعة في هذا الفصل لا يؤدي إلى تقليل الجماعة۔۔الخ
*کفایت المفتی: (ما یتعلق باحکام المساجد،32/10،ادارہ الفاروق)*
*کذا فی تبویب دارالعلوم کراچی:(فتویٰ نمبر:38/2040)*
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی