سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں 17 سال کی مسلمان لڑکی ہوں اور تقریباً تین سال سے کے پاپ انڈسٹری (K-pop industry) میں پروفیشنل آئیڈل/آرٹسٹ (professional idol/artist) بننے کے اپنے خواب اور اس کے شرعی حکم کے بارے میں واضح جواب تلاش کر رہی ہوں، مجھے اس انڈسٹری سے بہت گہرا لگاؤ ہو چکا ہے، لیکن میں اپنے دین کے ساتھ کسی بھی صورت میں سمجھوتا نہیں کرنا چاہتی۔
میری خواہش ہے کہ اگر میں اس فیلڈ میں جاؤں تو ہمیشہ حجاب کروں اور اپنے بال غیر محرم مردوں سے چھپاؤں، باحیا اور شرعی حدود کے مطابق لباس پہنوں، اپنی فرض نماز اور دیگر اسلامی فرائض کو کیریئر (career) کی وجہ سے ترک یا جان بوجھ کر مؤخر نہ کروں، اسلام کے کسی واضح حکم کو صرف کیریئر، شہرت (fame) یا کامیابی کے لیے نہ چھوڑوں، شراب، منشیات، فحش مواد اور دوسری واضح حرام چیزوں سے دور رہوں، کمپنی کے ساتھ پہلے ہی اپنی اسلامی حدود واضح کروں اور ممکن ہو تو انہیں معاہدے (contract) میں بھی شامل کرواؤں۔
لیکن مین اسٹریم کے پاپ انڈسٹری (mainstream K-pop industry) میں گلوکاری (singing)، موسیقی (music)، رقص اور کوریوگرافی (dancing/choreography)، میوزک ویڈیوز (music videos)، کنسرٹس (concerts)، مخلوط مرد و خواتین سامعین (mixed-gender audiences)، غیر محرم مردوں کے سامنے پرفارمنس (performance)، مرد اسٹاف (male staff)، پروڈیوسرز (producers) اور کوریوگرافرز (choreographers) کے ساتھ کام، فین میٹنگز (fan meetings) اور عوامی تقریبات (public appearances) شامل ہو سکتی ہیں۔
اس سوال کی وجہ سے میں تقریباً تین سال سے شدید ذہنی دباؤ اور بے چینی میں ہوں، کبھی میری نیند بھی متاثر ہوتی ہے اور مسلسل سوچنے کی وجہ سے میری روزمرہ زندگی پر بھی اثر پڑتا ہے، میرے لیے یہ صرف کیریئر کا سوال نہیں بلکہ میری دنیا اور آخرت دونوں کے لیے بہت اہم فیصلہ ہے، میں نہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچانا چاہتی ہوں اور نہ بغیر مکمل تحقیق کے اپنے مستقبل کے ایک بڑے خواب کو چھوڑنا چاہتی ہوں۔
براہِ کرم میری مخصوص صورتِ حال کے بارے میں واضح شرعی رہنمائی فرمائیں:
1) کیا ایک مسلمان لڑکی اپنے حجاب، باحیا لباس، نماز اور دیگر اسلامی حدود کو برقرار رکھتے ہوئے پروفیشنل کے پاپ آئیڈل/آرٹسٹ (professional K-pop idol/artist) بن سکتی ہے؟
براہِ کرم درج ذیل امور کا الگ الگ حکم بھی واضح فرمائیں:
پروفیشنل گلوکاری (professional singing)، موسیقی اور آلاتِ موسیقی (music and musical instruments)، رقص اور کوریوگرافی (dancing/choreography)، غیر محرم مردوں کے سامنے پرفارمنس (performance)، مخلوط مرد و خواتین سامعین (mixed-gender audience)، مرد اسٹاف، پروڈیوسرز اور کوریوگرافرز (male staff, producers and choreographers) کے ساتھ پروفیشنل کام، میوزک ویڈیوز (music videos)، کنسرٹس اور فین میٹنگز (concerts and fan meetings)، عوامی تقریبات (public appearances)
کے پاپ کمپنی کے ساتھ ٹرینی/آرٹسٹ معاہدہ (trainee/artist contract)
اگر حجاب اور لباس کی شرائط پہلے سے معاہدے (contract) میں شامل کر دی جائیں تو کیا اس سے شرعی حکم میں کوئی فرق پڑتا ہے؟
اور اگر مین اسٹریم کے پاپ انڈسٹری (mainstream K-pop industry) کی موجودہ صورت میں کچھ امور شرعاً ناجائز ہوں تو براہِ کرم یہ بھی بتائیں کہ کیا میری اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے اس فیلڈ میں کوئی جائز راستہ یا متبادل (alternative) موجود ہے؟
میں اپنے فیصلے کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق کرنا چاہتی ہوں۔ براہِ کرم قرآن و سنت اور معتبر فقہی اصولوں کی روشنی میں واضح اور تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: 1) پوچھی گئی صورت میں اگر کوئی مسلمان لڑکی اپنے حجاب، نماز اور دیگر اسلامی احکام کی پابندی کرتے ہوئے کے پاپ (K-pop) انڈسٹری میں بطور پروفیشنل آئیڈل یا آرٹسٹ کام کرنا چاہے تو موجودہ مین اسٹریم کے پاپ انڈسٹری کے عمومی ماحول، اس کے تقاضوں اور اس میں پائے جانے والے ناجائز امور کے پیش نظر ایسا کرنا شرعاً جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں عموماً موسیقی، رقص، نامحرم مردوں کے سامنے پرفارمنس، بے پردگی یا زینت کی نمائش، غیر محرموں سے غیر ضروری اختلاط اور دیگر شرعی ممنوعات لازم آتے ہیں۔
2) پروفیشنل گلوکاری کے بارے میں حکم یہ ہے کہ محض عورت کی آواز بذاتِ خود مطلقاً ستر نہیں، تاہم گانے، ترنم اور موسیقی کے ساتھ ایسی انداز میں پیش کرنا جس میں فتنہ، شہوت انگیزی یا نامحرموں کے لیے کشش کا پہلو پایا جائے، شرعاً جائز نہیں۔ بالخصوص موجودہ پاپ انڈسٹری میں گلوکاری عموماً موسیقی، رقص اور نمائش کے دیگر امور کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے، اس لیے اس صورت میں اس سے اجتناب لازم ہے۔
3) موسیقی اور آلاتِ موسیقی کے استعمال کے بارے میں جمہور فقہاء اور محدّثین کے نزدیک دف کے علاوہ آلاتِ موسیقی کا استعمال ناجائز ہے، اس لیے ایسے پاپ میوزک کی تیاری، ریکارڈنگ اور پرفارمنس میں شریک ہونا جس میں مذکورہ آلاتِ موسیقی استعمال ہوتے ہوں، شرعاً درست نہیں۔
4) رقص اور کوریوگرافی کے بارے میں حکم یہ ہے کہ خواتین کا نامحرم مردوں کے سامنے اس انداز سے رقص کرنا جس میں جسمانی حرکات، زینت اور فتنہ کا پہلو پایا جائے، شرعاً ناجائز ہے۔ کے پاپ کی عمومی کوریوگرافی چونکہ اسی نوعیت کی حرکات اور پرفارمنس پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے مسلمان لڑکی کے لیے اس میں شرکت کرنا جائز نہیں۔
5) نامحرم مردوں کے سامنے پرفارمنس، کنسرٹس اور فین میٹنگز میں شرکت بھی شرعی حدود کے منافی ہے، خصوصاً جب ان مواقع پر عورت کی شخصیت، آواز، لباس، زینت اور حرکات کو بڑی تعداد میں نامحرم افراد کے سامنے پیش کیا جائے اور اس کے نتیجے میں فتنہ کا اندیشہ موجود ہو۔
6) مرد و خواتین کے مخلوط اجتماعات کے بارے میں بھی شریعت نے اختلاط اور ایسے ماحول سے اجتناب کی تعلیم دی ہے جس میں شرعی حدود کی رعایت نہ ہو، لہٰذا ایسے کنسرٹس اور تقریبات میں بطور آرٹسٹ شرکت کرنا جن میں نامحرم مرد و خواتین کا اختلاط اور غیر شرعی ماحول غالب ہو، جائز نہیں۔
7) مرد اسٹاف، پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز اور کوریوگرافرز کے ساتھ کام کرنے کے دوران اگر خلوت، بلا ضرورت مسلسل اختلاط، جسمانی لمس یا دیگر ناجائز امور پیش آئیں تو ان سے بچنا لازم ہے۔ خصوصاً نامحرم مرد کا عورت کو بلا ضرورت چھونا شرعاً جائز نہیں؛ لہٰذا ایسا پروفیشنل ماحول جس میں ان امور سے بچنا ممکن نہ ہو، مسلمان عورت کے لیے اختیار کرنا درست نہیں۔
8) میوزک ویڈیوز، اشتہارات اور عوامی تقریبات میں ایسی تصویر کشی یا ویڈیو سازی میں شریک ہونا جس میں عورت کی زینت اور حسن کو نامحرموں کے سامنے نمایاں کیا جائے یا فحاشی و بے حیائی کی ترویج ہو، شرعاً جائز نہیں۔ اسی طرح اگر کسی ویڈیو کی تیاری میں موسیقی، رقص یا دیگر ناجائز امور شامل ہوں تو اس میں شرکت بھی درست نہیں۔
9) کے پاپ کمپنی کے ساتھ ایسا ٹرینی یا آرٹسٹ معاہدہ کرنا جس کا بنیادی مقصد مذکورہ ناجائز امور، مثلاً: موسیقی، رقص، نامحرموں کے سامنے پرفارمنس اور غیر شرعی ویڈیوز میں شرکت ہو، شرعاً جائز نہیں؛ کیونکہ مسلمان کے لیے کسی ایسے کام کا باقاعدہ التزام کرنا درست نہیں جس میں حرام امور انجام دینے کا عہد شامل ہو۔
10) اگر کمپنی کے ساتھ معاہدے میں یہ شرط بھی شامل کر دی جائے کہ لڑکی حجاب کرے گی، نماز کی پابندی کرے گی یا بعض اسلامی حدود کی رعایت کی جائے گی تو محض ان شرائط کی وجہ سے مذکورہ معاہدہ جائز نہیں ہوجائے گا، کیونکہ اگر معاہدے کے بنیادی فرائض ہی ایسے امور پر مشتمل ہوں جو شرعاً ناجائز ہیں تو حجاب یا نماز کی اضافی شرط ان ناجائز امور کو جائز نہیں بنا سکتی۔
11) ہاں! اگر کسی جگہ کام کی نوعیت ایسی ہو کہ تمام شرعی حدود کی مکمل رعایت ممکن ہو، مثلاً: موسیقی، رقص، نامحرموں کے سامنے پرفارمنس، بے پردگی، جسمانی لمس اور دیگر ناجائز امور بالکل نہ ہوں تو محض فن، آواز یا تخلیقی صلاحیت استعمال کرنے کی وجہ سے ہر قسم کے میڈیایا فن کو مطلقاً ناجائز قرار نہیں دیا جائے گا؛ بلکہ ہر صورت کا حکم اس میں موجود امور کے اعتبار سے الگ ہوگا۔
12) مذکورہ لڑکی اگر اپنی فنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا چاہتی ہے تو حمد، نعت، دینی و اخلاقی تعلیم، تعلیمی مواد، بلا موسیقی مفید صوتی و ویڈیو مواد، تحریر و تصنیف اور دیگر جائز تخلیقی میدان اختیار کرسکتی ہے، بشرطیکہ ان میں بھی شرعی احکام، حجاب، حیا اور دیگر حدود کی مکمل رعایت کی جائے۔
13) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا ۙ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾، یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا [الطلاق: 2]، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کسی ناجائز راستے کو چھوڑنے کے بعد جائز اور پاکیزہ ذرائع اختیار کیے جائیں؛ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے بہتر راستہ اور بہتر نعم البدل عطا فرمائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
ابن عابدين، رد المحتار: (كتاب الحظر والإباحة، ج 6، ص 348، طبع دار الفكر بيروت)
قوله باب الاستبراء وغيره) أي وفي الحظر والإباحة. وفي التتارخانية عن الإمام: الغناء مكروه في كل زمان. وفي المجتبى: إجاعة الصوت بالنوح والغناء حرام. اه. والمراد بالغناء المنهي عنه ما كان فيه ترجيع وتطريب واجتماع على ملاه، أو ما كان مشتملاً على محرم، أو مهيجاً للشهوات.
المرغيناني، الهداية شرح البداية: ( كتاب الكراهية، فصل في اللبس، ج 4، ص 356، طبع دار احياء التراث العربي بيروت )
ولا بأس بالدف في النكاح وفيما سوى ذلك فهو مكروه؛ لأن الملاهي كلها مبطلة مكروهة إلا الدف في النكاح، وقوله عليه الصلاة والسلام: «إعلان النكاح بالدف»، ولأنه عزم للسرور بخلاف غيره.
الكاساني، بدائع الصنائع: ( كتاب الاستحسان، فصل في بيان ما يحل للرجل نظره إلى المرأة، ج 5، ص 121، طبع دار الكتب العلمية بيروت)
وأما النظر إلى وجهها وكفيها فليس بحرام، ولكن يكره لغير عذر لما روينا، إلا عند الحاجة بأن يكون قاضيا أو شاهدا أو خاطبا، لأنه لا يمكنه إقامة الحق بدون النظر إلى الوجه، وكذا الطبيب لأنه لا يمكنه المداواة بدون النظر إلى الموضع العليل.
ابن قدامة، المغني: (كتاب الجراح، فصل النظر إلى المخطوبة، ج 7، ص 454، طبع دار الفكر بيروت)
فأما الأجنبية: فإن لم يكن لحاجة، لم يحل النظر إلى شيء منها بحال. وقال أحمد في المرأة البستانية تبيع الخضرة للرجال: لا بأس أن تنظر إلى وجهها إذا لم يرد به لذة. قال القاضي: هذا محمول على الحاجة؛ لأنها تبتاع وتبيع، فربما احتاجت إلى كشف وجهها للتبايع، ولم يجز لمن يحتاج إلى ذلك النظر إلا قدر الحاجة.
ابن عابدين، رد المحتار ( كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، ج 1، ص 406، طبع دار الفكر بيروت):
(قوله صوت المرأة عورة) أي مرادهم أنه عورة خارج الصلاة يخاف منه الفتنة ولذا قال في الحلية: ولا يخفى أن صوتها ليس بعورة في نفسه إذ لا يحرم استماعه عند الحاجة لكلامها لحاجة البيع والسؤال والأجوبة ونحوها، وإنما يمنع الاستماع لالتذاذ به لا لأنه عورة، ألا ترى أن أمهات المؤمنين كن يكلمن الرجال من وراء الحجاب، وكان الرجال يسألونهم عن أحكام الدين، وتسمع أصواتهن من غير نكير، وإنما المنهي عنه الخضوع بالقول والتنجيم والترجيع بالغناء، لما في ذلك من استمالة الرجال وتحريك الشهوات منهم.
السرخسي، المبسوط( كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما لا يفسدها، ج 1، ص 195، طبع دار المعرفة بيروت):
ولا يجوز للرجل أن يقيم على الرقص، ولا أن يسمع الملاهي؛ لأن الرقص باطل، والدف والمزمار والمعازف حرام، قال الله تعالى: {وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَاماً} [الفرقان: 72]، ولما روى عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «صوتان ملعونان في الدنيا والآخرة: مزمار عند نعمة، ورنة عند مصيبة».
ابن قدامة، المغني( كتاب الصلاة، فصل في السماع وما يكره منه، ج 1، ص 738، طبع دار الفكر بيروت):
فأما الآلات المحرمة، كالبربط، والشبابة، والمزمار، والكوبة، والمعازف، والعود، والطنبور، وغيرها، فتحريمها مروي عن ابن مسعود، وابن عباس، وعمر بن الخطاب رضي الله عنهم. وقال أبو حنيفة: استماع الملاهي كلها فسق، والتلذذ بها كفر.
المرغيناني، الهداية شرح البداية( كتاب الكراهية، فصل في اللبس، ج 4، ص 357، طبع دار احياء التراث العربي بيروت):
ولا تجوز الإجارة على الملاهي والغناء؛ لأنه معصية، والأجرة على المعصية باطلة، ولا تجوز الاستئجار لنوح أو غناء أو ضرب دف أو مزمار.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی