resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: خواتین کا ذریعۂ آمدن کے لیے یوٹیوب پر وی لاگز (Vlogs) بنانے کا حکم

(60503-No)

سوال: ایک لڑکی کی عمر 31 سال ہو چکی ہے، ابھی تک شادی کے معاملات طے نہیں ہوئے اور آئندہ بھی کوئی صورت نظر نہیں آرہی، اس کے کچھ عوارض کے مسائل ہیں اور گزشتہ 10 سال سے اس کا علاج کروایا جا رہا ہے، لیکن ابھی تک افاقہ نہیں ہوا۔
گھر والے بھی پریشان ہیں، لڑکی اپنا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے خود کمانا چاہتی ہے، کیونکہ والدین کے بعد اس کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا، اسی وجہ سے والدین نے اسے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن فزیکل جاب کرنے کی اجازت نہیں دی، البتہ ریموٹ جاب کی اجازت ہے۔ تاہم ریموٹ جاب بھی آسانی سے نہیں ملتی، اور اگر مل جائے تو اس میں کوئی نہ کوئی غلط یا ناجائز کام درمیان میں شامل ہوتا ہے۔
پوچھنا یہ ہے کہ کیا وہ صرف ہاتھ دکھا کر اور وائس اوور کے ذریعے وی لاگ بنا سکتی ہے؟ مثلاً: کھانا پکایا تو صرف وہ دکھا دیا، بغیر کسی بے حیائی کے گھر کی کوئی سرگرمی دکھا دی، کپڑے دکھا دیے یا شاپنگ وغیرہ دکھا دی۔ کیا اس طرح کی کمائی حلال ہوگی؟ کیا ہاتھ دکھانا اور وائس اوور کرنا جائز ہوگا؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر اخراجات کے سلسلے میں دشواری کا سامنا ہو، اور اس کے علاوہ کوئی اور ذریعۂ آمدن بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں اصولی طور پر درجِ ذیل شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے یوٹیوب پر وی لاگز (Vlogs) بنانے کی گنجائش ہو سکتی ہے:
1) وی لاگز (Vlogs)جائز امور پر مبنی ہوں، مثلاً: دعوتی، تعمیری یا تعلیمی غرض سے بنائےگئے وی لاگز (Vlogs) وغیرہ (جس میں ککنگ ولاگز بھی شامل ہوسکتے ہیں)۔

2) اپنی یا کسی اور خاتون کی تصاویر اور ویڈیوز سے اجتناب کیا جائے۔
3) وی لاگز (Vlogs) اور اس پر چلنے والے اشتہارات ناجائز مواد، مثلاً: موسیقی، فحش مواد، ناجائز و حرام کاروبار کی تشہیر یا کسی اور ناجائز امور پر مشتمل نہ ہوں۔
تاہم چونکہ یوٹیوب چینل پر چلنے والے اشتہارات بالعموم ناجائز امور، خواتین کی تصاویر، میوزک اور دیگر خلافِ شرع امور پر مشتمل ہوتے ہیں، لہٰذا یوٹیوب کی کمائی سے حتی الامکان اجتناب کرنا چاہیے، اور اس کے بجائے گھر میں رہ کر اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کوئی مناسب اور جائز ذریعہ آمدن اختیار کرنا چاہیے۔
تاہم اگر معاشی ضرورت کی وجہ سے یوٹیوب سے کمائی جاری رکھی جائے تو ایسے ناجائز اشتہارات کو فلٹر وغیرہ لگا کر حتی الامکان بند کرانے کی کوشش کی جائے، اگر کوشش کے باوجود بھی ناجائز اشتہارات چلتے ہوں تو ان ناجائز اشتہارات کے عوض حاصل ہونے والی آمدنی صدقہ کردی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*القرآن الكريم: (النور، الآية: 31 )*
قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ یَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِہِنَّ وَ یَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَہُنَّ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ ۪ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اٰبَآئِہِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآئِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اَخَوٰتِہِنَّ اَوۡ نِسَآئِہِنَّ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ اَوِ التّٰبِعِیۡنَ غَیۡرِ اُولِی الۡاِرۡبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یَظۡہَرُوۡا عَلٰی عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ ۪ وَ لَا یَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِہِنَّ لِیُعۡلَمَ مَا یُخۡفِیۡنَ مِنۡ زِیۡنَتِہِنَّ ؕ وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ.

*القرآن الكريم: ( الاحزاب، الآية: 32 )*
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَیَطۡمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلۡبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا.

*جامع الترمذى: ( 38/4، رقم الحدیث: 2165، ط: دار الغرب الاسلامى )*
عن ‌ابن عمر قال: «خطبنا ‌عمر بالجابية،» فقال: يا أيها الناس، إني قمت فيكم كمقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فينا، فقال: أوصيكم بأصحابي ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم، ثم يفشو الكذب حتى يحلف الرجل ولا يستحلف، ويشهد الشاهد ولا يستشهد، ألا لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان، عليكم بالجماعة وإياكم والفرقة، فإن الشيطان مع الواحد وهو من الاثنين أبعد، من أراد بحبوحة الجنة فليلزم الجماعة، من سرته حسنته وساءته سيئته فذلك المؤمن.
هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه، وقد رواه ابن المبارك عن محمد بن سوقة، وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم.

*شرح النووي على مسلم: (212/13، دار إحياء التراث العربي)*
(فأتى رجلا من الأنصار فقالت مرحبا وأهلا).... وفيه جواز ‌سماع ‌كلام ‌الأجنبية ومراجعتها الكلام للحاجة.

*رد المحتار: ( 406/1، ط: دار الفکر )*
ذکر الإمام أبو العباس القرطبي في کتابه في السماع: ولا یظن من لا فطنة عندہ أنا إذا قلنا صوت المرأۃ عورۃ، أنا نرید بذلک کلامها؛ لأن ذلک لیس بصحیح، فإنا نجیز الکلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلی ذلک، ولا نجیز لهن رفع أصواتهن ولا تمطیطها ولا تلیینها وتقطیعها، لما في ذلک من استمالة الرجال إلیهن وتحریک الشهوات منهم، ومن هذا لم یجز أن تؤذن المرأۃ، قلت: ویشیر إلی تعبیر النوازل بالنغمة.

*کذا فی تبویب الفتاویٰ لجامعة دارالعلوم كراتشى: رقم الفتوی: 31/1976)*

*کذا فی فتاوی جامعة الرشيد كراتشى: رقم الفتوی: (84906)*

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Women's Issues