resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: عورت کا ہوٹل سے مسجد عائشہ (تنعیم) یا مسجدِ حرام اکیلے جانے کا حکم

(60508-No)

سوال: جناب مفتی صاحب! میں اس سال اپنے بھائی کے ساتھ حج (تمتع) کے لئے جا رہی ہوں، رہائش کے دوران پہلے عمرے کی ادائیگی کے بعد اگر بھائی ہوٹل میں رہے تو کیا میں بغیر بھائی کے مسجد عائشہ سے نیت کر کے عمرہ ادا کر سکتی ہوں؟ اور کیا بغیر بھائی کے مسجد حرام میں نماز اور نفلی طواف کر سکتی ہوں؟ نیز نفلی طواف کی نیت اور طریقہ بھی بتا دیجیے۔
2) کیا عورت احرام کی حالت میں کپڑوں کے اوپر برقعہ پہن کر حج و عمرہ کر سکتی ہے؟

جواب: (1) معاشرے میں آج کل فتنوں کی کثرت ہو چکی ہے، اور بالخصوص آپ چونکہ حج کے ایک مبارک سفر پر بھی جارہی ہیں، اس لیے آپ کے لیے افضل اور احتیاط اسی میں ہے کہ آپ اپنے بھائی یا کسی محرم کے ساتھ مسجدِ عائشہ (تنعیم) یا مسجدِ حرام جائیں، تاہم اگر آپ اکیلی بھی چلی گئیں تو عمرہ ادا ہوجائے گا۔
(2) نفلی طواف کے لیے بیت اللہ شریف کے سات چکروں کی نیت کرلینا کافی ہے، مثلاً دل میں یہ ارادہ کرلیں کہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نفلی طواف کرتی ہوں۔ پھر حجرِ اسود کے سامنے سے طواف شروع کرکے بیت اللہ شریف کو بائیں جانب رکھتے ہوئے سات چکر مکمل کریں، ہر چکر حجرِ اسود کے سامنے سے شروع ہوکر وہیں ختم ہوگا، اگر ممکن ہو تو حجرِ اسود کو بوسہ دیں، ورنہ اس کی طرف اشارہ کرکے استلام کرتے ہوئے آگے بڑھ جائیں، طواف مکمل کرنے کے بعد مقام ابراہیم کے پاس یا مسجد حرام میں کسی بھی جگہ دو رکعت نماز ادا کرنا واجب ہے۔
(3) عورت کے لیے حالتِ احرام میں برقعہ پہننا جائز ہے، البتہ چہرے پر ایسا نقاب پہننا جائز نہیں، جو چہرے سے لگے، تاہم غیر محرم مردوں سے چہرہ چھپانا ضروری ہے، اس لیے ایسا حجاب استعمال کیا جائے جس کا کپڑا چہرے سے نہ لگتا ہو ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*البحر الرائق: (کتاب الحج،باب الاحرام،360/2، دار الكتاب الإسلامي)*
(قوله ثم أقم بمكة حراما؛ لأنك محرم بالحج،‌فطف ‌بالبيت ‌كلما ‌بدا ‌لك) أي ظهر لك لحديث الطحاوي وغيره «الطواف بالبيت صلاة إلا أن الله قد أحل لكم المنطق» والصلاة خير موضوع فكذا الطواف إلا أنه لا يسعى لكونه لا يتكرر لا وجوبا ولا نفلا، وكذا الرمل ويجب أن يصلي لكل أسبوع ركعتين كما قدمناه فالطواف التطوع أفضل للغرباء من صلاة التطوع.

*الدر المختار:(كتاب الحج، 2/ 478، ط: دار الفکر)*
(و) الميقات (لمن بمكة) يعني من بداخل الحرم (للحج الحرم وللعمرة الحل) ليتحقق نوع سفر و التنعيم أفضل.

*رد المحتار: (464/2،ط:دار الفکر)*
( قوله مع زوج أومحرم) ..... والمحرم من لایجوزله مناکحتها علی التأبید بقرابة اورضاع أوصھریة۔۔۔۔۔۔(قوله فی سفر) هوثلاثة ایام ولیالیها فیباح لها الخروج الی مادونه لحاجة بغیر محرم، وروي عن أبي حنیفۃؒ وأبي یوسف کراہة خروجها وحدها مسیرۃ یوم واحد، وینبغي أن یکون الفتویٰ علیه لفساد الزمان.

*الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:(3/ 599)*
وأجاز الشافعية والحنفية ذلك بوجود حاجز عن الوجه فقالوا: للمرأة أن تسدل على وجهها ثوباً متجافياً عنه بخشبة ونحوها، سواء فعلته لحاجة من حر أو برد أو خوف فتنة ونحوها، أو لغير حاجة، فإن وقعت الخشبة فأصاب الثوب وجهها بغير اختيارها ورفعته في الحال، فلا فدية. وإن كان عمداً وقعت بغير اختيارها فاستدامت، لزمتها الفدية.

*البحر الرائق: (کتاب الحج، 339/2، ط: دار الكتاب الاسلامي)*
وقیّد بالسفر وهو ثلاثة أیام بلیالها؛ لأنه یباح لها الخروج إلی ما دون ذلک لحاجة بغیر محرم.

*لباب المناسك مع إرشاد السارى:(باب أنواع الأطوفة وأحكامها، ص:218، ط: الإمدادية، مكة المكرمة)*
"وهي " أى صلاة الطواف واجبة بعد كل طواف فرضًا كان أو واجبًا أو سنة أو نفلاً ولا تختص بزمان ولا مكان، أى باعتبار الجواز والصحة.

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage) & Umrah