سوال:
محترم مفتیانِ کرام! گزارش ہے کہ میں ایک آن لائن کاروبار کرنا چاہتا ہوں جسے "ڈراپ شِپنگ" کہتے ہیں, اِس سلسلے میں ایک مخصوص پلیٹ فارم سی جے ڈراپ شِپنگ کے بارے میں آپ حضرات سے شرعی رہنمائی درکار ہے۔
سی جے ڈراپ شِپنگ کا طریقۂ کار
سی جے ڈراپ شِپنگ ایک چینی سپلائر پلیٹ فارم ہے جو درج ذیل طریقے سے کام کرتا ہے:
میں اپنی علیحدہ ویب سائٹ بناتا ہوں اور اُس پر سی جے ڈراپ شِپنگ کے پروڈکٹس کی تصاویر، تفصیل اور قیمت درج کر کے فروخت کے لیے پیش کرتا ہوں۔ جب کوئی گاہک میری ویب سائٹ سے آرڈر کرتا ہے اور پیسے ادا کرتا ہے تو وہ رقم میرے پاس آتی ہے۔ اس کے بعد میں سی جے ڈراپ شِپنگ کو اُس پروڈکٹ کی تھوک قیمت ادا کرتا ہوں اور گاہک کا پتہ فراہم کرتا ہوں۔ سی جے ڈراپ شِپنگ خود وہ پروڈکٹ پیک کر کے براہِ راست گاہک کے گھر بھیج دیتا ہے، میرے پاس وہ مال کبھی آتا ہی نہیں، نہ میں اُسے دیکھتا ہوں نہ چھوتا ہوں۔ میرا منافع گاہک سے لی گئی قیمت اور سی جے کو ادا کی گئی تھوک قیمت کا فرق ہوتا ہے، مثلاً: میں نے سی جے کو ۵ ڈالر دیے اور گاہک سے ۱۵ ڈالر لیے تو ۱۰ ڈالر میرا نفع ہوا۔
ممجھے معلوم ہے کہ جو چیز آپ کے قبضے میں نہ ہو اُسے فروخت کرنا شرعاً ممنوع ہے۔ تاہم میرے ذہن میں ایک صورت آئی ہے جسے میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں:
کیا یہ طریقہ جائز ہو گا کہ میں اپنی ویب سائٹ پر ہر پروڈکٹ کی تفصیل میں واضح طور پر لکھ دوں کہ "یہ پروڈکٹ میرے پاس موجود نہیں ہے، میں ایک کمیشن ایجنٹ کی حیثیت سے کام کر رہا ہوں، یعنی میں گاہک کو پہلے سے آگاہ کر دوں کہ میں محض واسطہ ہوں؟
لیکن یہاں ایک اہم پیچیدگی ہے:سی جے ڈراپ شِپنگ کا نظام اصل میں کمیشن ایجنسی کا نہیں ہے، اِس میں میں پہلے گاہک سے پیسے لیتا ہوں، پھر سی جے کو ادا کرتا ہوں، گویا میں درمیان میں خود خریدار اور پھر فروخت کنندہ بن جاتا ہوں، نہ کہ محض ایجنٹ۔ سی جے کا مجھ سے کوئی باقاعدہ وکالت یا ایجنسی کا معاہدہ نہیں ہوتا۔
مطلوبہ رہنمائی
لہٰذا آپ حضرات سے گزارش ہے کہ درج ذیل اُمور میں رہنمائی فرمائیں:
۱) کیا مذکورہ بالا طریقے سے ڈراپ شِپنگ کرنا شرعاً جائز ہے؟
۲) اگر ناجائز ہے تو کیا ویب سائٹ پر "کمیشن ایجنٹ" لکھ دینے سے یہ جائز ہو جائے گا، جبکہ سی جے کے ساتھ معاہدہ وکالت کا نہیں بلکہ خرید و فروخت کا ہے؟
۳) اگر یہ صورت بھی ناجائز ہے تو اِس کاروبار کو شرعی اعتبار سے جائز بنانے کی کیا عملی صورت ہو سکتی ہے؟
جواب: سوال میں مذکور طریقہ کے مطابق آپ اپنی ویب سائٹ پر سی جے ڈراپ شپنگ کے سامان کی تصاویر اور تفصیلات لگا دیتے ہیں، گاہک اس ویب سائٹ کے ذریعہ آرڈر دیتا ہے اور پیسے ادا کرتا ہے، رقم وصول کرنے کے بعد آپ سی جے ڈراپ شپنگ کو اُس سامان کی تھوک قیمت ادا کرکے براہِ راست گاہک کو بھجوا دیتے ہیں، جبکہ سامان پہلے آپ کے قبضہ میں نہیں آتا، شرعی طور پر کسی ایسی چیز کو فروخت کرنا جو فروخت کنندہ کے قبضہ میں نہ ہو، جائز نہیں ہے، لہٰذا مذکورہ طریقہ شرعاً درست نہیں ہے۔
نیز صرف ویب سائٹ پر یہ لکھ دینا کہ "میں کمیشن ایجنٹ ہوں" کافی نہیں، کیونکہ شرعی حکم اصل معاملہ پر ہوتا ہے، اگر حقیقت میں سپلائر کے ساتھ وکالت یا ایجنسی کا معاہدہ موجود نہیں بلکہ آپ خود خریدار اور فروخت کنندہ بن رہے ہیں تو یہ جائز نہیں ہوگا، البتہ درج ذیل صورتوں میں سے کوئی صورت اختیار کرلی جائے تو یہ کاروبار جائز ہوسکتا ہے:
(1) فروخت کنندہ پہلے سپلائر سے سامان خریدے، پھر اس پر قبضہ حاصل کرے، چاہے خود حاصل کرے یا اپنے کسی نمائندے کے ذریعے قبضہ کرے، اس کے بعد گاہک کو فروخت کرے، اس صورت میں معاملہ شرعاً درست ہوگا۔
(2) سپلائر کمپنی کے ساتھ باقاعدہ ایجنسی کا معاہدہ کیا جائے اور آپ اس کی طرف سے سامان فروخت کریں، جبکہ آپ کو طے شدہ کمیشن دیا جائے۔
(3) گاہک کے ساتھ وکالت کا معاملہ کیا جائے، یعنی آپ اپنی ویب سائٹ پر واضح طور پر لکھ دیں کہ میں اس سامان کا مالک نہیں ہوں، بلکہ آپ کی طرف سے بطور وکیل یہ سامان خرید کر فراہم کرتا ہوں، اس صورت میں جب گاہک آرڈر دے تو وہ آپ کو اپنا وکیل مقرر کرے کہ آپ اس کی طرف سے متعلقہ سپلائر سے سامان خرید لیں۔ آپ سپلائر سے گاہک کی طرف سے سامان خریدیں گے، پھر وہ سامان گاہک کو فراہم کر دیں گے۔ اور اس خدمت کے بدلے آپ طے شدہ اجرت یا کمیشن لے سکتے ہیں، البتہ اس طریقے میں سامان کی اصل قیمت اور آپ کا کمیشن دونوں واضح ہونے چاہئیں، مثلاً: ویب سائٹ پر لکھا جائے کہ سامان کی اصل قیمت (سپلائر سے خریداری کی قیمت) اتنی ہے، اس خریداری اور فراہم کرنے کی خدمت کے عوض کمیشن اتنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*
*السنن الكبري للبيهقي: (95/8، ط: دار الفكر)*
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَطْلُبُ مِنِّى الْبَيْعَ وَلَيْسَ عِنْدِى أَفَأَبِيعُهُ لَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- :« لاَ تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ.
*بدائع الصنائع: (35/7، کتاب البیوع، فصل وأما الذی یرجع الی المعقود علیه)*
وَمِنْهَا وهو شَرْطُ انْعِقَادِ الْبَيْعِ لِلْبَائِعِ أَنْ يَكُونَ مَمْلُوكًا لِلْبَائِعِ عِنْدَالْبَيْعِ فَإِنْ لم يَكُنْ لَا يَنْعَقِدْ وَإِنْ مَلَكَهُ بَعْدَ ذلك بِوَجْهٍ من الْوُجُوهِ إلَّا السَّلَمَ خَاصَّةً وَهَذَا بَيْعُ ما ليس عِنْدَهُ وَنَهَى رسول اللَّهِ صلى اللَّهُ عليه وسلم عن بَيْعِ ما ليس عِنْدَ الْإِنْسَانِ وَرَخَّصَ في السَّلَمِ۔۔۔(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع ما لم يقبض۔۔۔(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع ما لم يقبض.
*فتح القدیر: (511/6، ط: دار الفکر)*
(قوله ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه) إنما اقتصر على البيع ولم يقل إنه يتصرف فيه لتكون اتفاقية، فإن محمدا يجيز الهبة والصدقة به قبل القبض۔۔۔أخرج النسائي أيضا في سننه الكبرى عن يعلى بن حكيم عن يوسف بن ماهك عن عبد الله بن عصمة عن حكيم بن حزام قال: قلت يا رسول الله إني رجل أبتاع هذه البيوع وأبيعها فما يحل لي منها وما يحرم؟ قال: لا تبيعن شيئا حتى تقبضه ورواه أحمد في مسنده وابن حبان
*الدر المختار: (کتاب الإجارۃ، 5/6، ط: دار الفکر)*
وشرطہا : کون الأجرۃ والمنفعۃ معلومتین، لأن جہالتہما تفضي إلی المنازعۃ
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی