عنوان: کیا مسجد نبوی میں چالیس نمازیں نہ پڑھنے کی صورت میں حج میں کمی آئی گی؟ (6086-No)

سوال: مفتی صاحب! میں اس سال حج کے لئے گیا تھا، اور حج کی ادائیگی کے بعد مدینہ شریف چلا گیا، لیکن چونکہ واپسی میں چند دن باقی تھے، تو میں مسجد نبوی میں چالیس نمازیں نہ پڑھ سکا اور وطن واپس آگیا، سوال یہ کہ اس سے میرے حج میں کوئی کمی تو نہیں آئے گی؟

جواب: مسجد نبوی میں چالیس نمازیں پڑھنا فضیلت کا باعث ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس شخص نے میری مسجد میں چالیس نمازیں اس طرح ادا کیں کہ اس کی کوئی بھی نماز (باجماعت) فوت نہ ہو، اس کے لئے آگ اور عذاب سے براءت لکھ دی جائے گی"، لہذا مسجد نبوی میں چالیس نمازیں باجماعت پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے، البتہ اگر کوئی حاجی مسجد نبوی میں چالیس نمازیں نہ پڑھ سکا، تو اس سے اس کے حج میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

المعجم الاوسط: (325/5، ط: دار الحرمین)
عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من صلى في مسجدي أربعين صلاة لا يفوته صلاة، كتب الله له براءة من النار، ونجاة من العذاب»

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 855 Dec 10, 2020
kai masjid e nabvi mai chalees namazain na parhne ki soorat mai hajj mai kami aygi ?, Will the Hajj be reduced if forty prayers are not offered / performed in the Prophet's Mosque / masjid e nabvi?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage) & Umrah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.