عنوان: زمین پر ناجائز قبضہ کرنے والے کو دھمکی دینے کا شرعی حکم(106129-No)

سوال: مفتی صاحب ! ہماری زمین كے اُوپر کافی عرصہ سے قبضہ ہوا ہے، جس کی مالیات تقریباً 4 سے 5 کروڑ روپے ہے، تقریباً 20 سال سے کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے اور ابھی تک فیصلہ نہیں آیا۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ جس شخص نے زمین پر قبضہ کیا ہے، اس کی گندی تصویر بنا کر اس کو مجبور کیا جائے کہ وہ زمین ہمارے حوالے کردے اور اگر شریعت اس بات کی اجازت نہیں دیتی، تو پھر زمین کس طرح واپس حاصل کی جائے؟ جزاک اللہ

جواب: واضح رہے کہ کسی شخص کی زمین پر ناجائز قبضہ کرنا ظلم اور زیادتی ہے، اور ظلم حرام اور ناجائز کام ہے۔ حدیث مبارکہ میں کسی کی زمین کا ایک ٹکڑا بھی غصب کرنے پر سخت وعید آئی ہے، چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے :

حضرت سعید ابن زید رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی کی زمین ظلم وزیادتی سے چھین لے، تو (قیامت کے دن) سات زمینوں کا طوق اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح بخاری)

لہذا صورت مسئولہ میں ایسے شخص کو پہلے اچھے طریقے سے سمجھا دینا چاہئیے، اگر پھر بھی وہ ظلم اور زیادتی سے نہیں رکتا، تو اس کو روکنے کیلیے قانونی کاروائی بھی کرنا جائز ہے، نیز اسے دھمکانے کیلیے کوئی مناسب تدبیر اختیار کرنے کی اجازت ہے، لیکن اس کی ننگی تصویریں لینا، کسی صورت میں جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی صحیح البخاری :

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ اﻟﻴﻤﺎﻥ، ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺷﻌﻴﺐ، ﻋﻦ اﻟﺰﻫﺮﻱ، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻃﻠﺤﺔ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ، ﺃﻥ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺳﻬﻞ، ﺃﺧﺒﺮﻩ ﺃﻥ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ، ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻳﻘﻮﻝ: «ﻣﻦ ﻇﻠﻢ ﻣﻦ اﻷﺭﺽ ﺷﻴﺌﺎ ﻃﻮقہ ﻣﻦ ﺳﺒﻊ ﺃﺭﺿﻴﻦ.

(رقم الحدیث : 2452)

وکذا فی صحیح البخاری :

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺴﺪﺩ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﻌﺘﻤﺮ، ﻋﻦ ﺣﻤﻴﺪ، ﻋﻦ ﺃﻧﺲ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ، ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: «اﻧﺼﺮ ﺃﺧﺎﻙ ﻇﺎﻟﻤﺎ ﺃﻭ ﻣﻈﻠﻮﻣﺎ» ، ﻗﺎﻟﻮا: ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ، ﻫﺬا ﻧﻨﺼﺮﻩ ﻣﻈﻠﻮﻣﺎ، ﻓﻜﻴﻒ ﻧﻨﺼﺮﻩ ﻇﺎﻟﻤﺎ؟ ﻗﺎﻝ: «ﺗﺄﺧﺬ ﻓﻮﻕ ﻳﺪﻳﻪ» (ﺗﺄﺧﺬ ﻓﻮﻕ ﻳﺪﻳﻪ) ﺗﻤﻨﻌﻪ ﻣﻦ اﻟﻈﻠﻢ۔

(رقم الحدیث : 2444، ط : دار طوق النجاة)

كذا في مسند احمد :

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﻔﺎﻥ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ، ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﺮﺓ اﻟﺮﻗﺎﺷﻲ، ﻋﻦ ﻋﻤﻪ، ﻗﺎﻝ: ﻛﻨﺖ ﺁﺧﺬا ﺑﺰﻣﺎﻡ ﻧﺎﻗﺔ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﻲ ﺃﻭﺳﻂ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﺘﺸﺮﻳﻖ، ﺃﺫﻭﺩ ﻋﻨﻪ اﻟﻨﺎﺱ، ﻓﻘﺎﻝ: ﻳﺎ ﺃﻳﻬﺎ اﻟﻨﺎﺱ، ﻫﻞ ﺗﺪﺭﻭﻥ ﻓﻲ ﺃﻱ ﻳﻮﻡ ﺃﻧﺘﻢ؟ ﻭﻓﻲ ﺃﻱ ﺷﻬﺮ ﺃﻧﺘﻢ ؟ ﻭﻓﻲ ﺃﻱ ﺑﻠﺪ ﺃﻧﺘﻢ؟ ﻗﺎﻟﻮا: ﻓﻲ ﻳﻮﻡ ﺣﺮاﻡ، ﻭﺷﻬﺮ ﺣﺮاﻡ، ﻭﺑﻠﺪ ﺣﺮاﻡ، ﻗﺎﻝ: ﻓﺈﻥ ﺩﻣﺎءﻛﻢ ﻭﺃﻣﻮاﻟﻜﻢ ﻭﺃﻋﺮاﺿﻜﻢ ﻋﻠﻴﻜﻢ ﺣﺮاﻡ، ﻛﺤﺮﻣﺔ ﻳﻮﻣﻜﻢ ﻫﺬا، ﻓﻲ ﺷﻬﺮﻛﻢ ﻫﺬا، ﻓﻲ ﺑﻠﺪﻛﻢ ﻫﺬا، ﺇﻟﻰ ﻳﻮﻡ ﺗﻠﻘﻮﻧﻪ، ﺛﻢ ﻗﺎﻝ: اﺳﻤﻌﻮا ﻣﻨﻲ ﺗﻌﻴﺸﻮا، ﺃﻻ ﻻ ﺗﻈﻠﻤﻮا، ﺃﻻ ﻻ ﺗﻈﻠﻤﻮا، ﺃﻻ ﻻ ﺗﻈﻠﻤﻮا، ﺇﻧﻪ ﻻ ﻳﺤﻞ ﻣﺎﻝ اﻣﺮﺉ ﺇﻻ ﺑﻄﻴﺐ ﻧﻔﺲ ﻣﻨﻪ، ﺃﻻ ﻭﺇﻥ ﻛﻞ ﺩﻡ، ﻭﻣﺎﻝ ﻭﻣﺄﺛﺮﺓ ﻛﺎﻧﺖ ﻓﻲ اﻟﺠﺎﻫﻠﻴﺔ ﺗﺤﺖ ﻗﺪﻣﻲ ﻫﺬﻩ ﺇﻟﻰ ﻳﻮﻡ اﻟﻘﻴﺎﻣﺔ.

(رقم الحديث : 20695)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 456
zameen par na jaiz qabza karne walay dhamki dene ka shar'ee hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.