سوال:
مفتی صاحب ! میت کے لیے کچھ دعائیں بتادیں۔
جواب: حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺنے ایک جنازہ پر یہ دعا پڑھی، جسے میں نے یاد کر لیا:
(1) اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنْ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنْ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ۔
ترجمہ: اے اللہ ! اس کی مغفرت فرما، اس پر رحم فرما اور اسے عافیت دے، اسے معاف فرما، اس کے آنے کی ضیافت فرما، اس کے داخل ہونے کی جگہ (قبر) کو کشادہ فرما، پانی، برف اور اولے سے اس کے گناہ دھو دے، اسے گناہوں سے ایسا صاف فرما، جیسا کہ توسفید کپڑا میل سے صاف کرتا ہے، اس کو اس گھر کے بدلہ بہتر گھر دے، اس کے اہل سے بہتر اہل، اس بیوی سے بہتر بیوی عطا فرما، اسے جنت میں داخل فرما، قبر اور جہنم کے عذاب سے اس کی حفاظت فرما۔
(صحیح مسلم، باب الدعاء للمیت فی الصلاۃ، رقم الحدیث 2232)
فضیلت: راوی حدیث کہتے ہیں کہ کاش اس میت کی جگہ میں ہوتا۔
یہ دعا بھی پڑھ سکتے ہیں:
(2) اَللّٰهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ، وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ۔
ترجمہ: اے اللہ ! بلاشبہ فلاں بن فلاں تیرے ذمہ اور تیری پناہ میں ہے، پس تو اسے قبر کی آزمائش سے اور جہنم کے عذاب سے بچا اور تو وفا اور حق والا ہے، پس تو اسے معاف فرما اور اس پر رحم فرما، بیشک تو بہت زیادہ معاف کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
(سنن ابن ماجة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ، رقم الحديث: 1499)
نوٹ: فلاں بن فلاں کی جگہ مرحوم اور اس کے والد کا نام لیں۔
(3) اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا، وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا، جِئْنَاكَ شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهُ
ترجمہ: اے اللہ ! آپ اس کے پروردگار ہیں اور آپ نے اسے پیدا کیا ہے اور آپ نے اس کو اسلام کا راستہ دکھایا اور آپ نے اس کی روح قبض کی اور آپ اس کے ظاہر و باطن کو خوب جانتے ہیں، ہم اس کی سفارش کے لئے حاضر ہوئے ہیں، آپ اسے بخشش دیں۔
(سنن ابی داؤد، بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ، رقم الحديث: 3200)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحیح مسلم: (باب الدعاء للمیت فی الصلاۃ، رقم الحدیث: 2232)
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ سَمِعَهُ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنْ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنْ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ قَالَ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا ذَلِكَ الْمَيِّتَ.
سنن ابن ماجۃ: (بَابُ مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ، رقم الحديث: 1499، ط: دار المعرفة)
اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ، وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
سنن ابی داؤد: (بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ، رقم الحديث: 3200، ط: دار ابن حزم)
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُلَاسِ عُقْبَةُ بْنُ سَيَّارٍ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ شَمَّاخٍ، قَالَ: شَهِدْتُ مَرْوَانَ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ؟ قَالَ: أَمَعَ الَّذِي قُلْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: كَلَامٌ كَانَ بَيْنَهُمَا قَبْلَ ذَلِكَ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا، وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا، جِئْنَاكَ شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهُ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " أَخْطَأَ شُعْبَةُ فِي اسْمِ عَلِيِّ بْنِ شَمَّاخٍ، قَالَ فِيهِ: عُثْمَانُ بْنُ شَمَّاسٍ، وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، الْمُوصِلِيَّ يُحَدِّثُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، قَالَ: مَا أَعْلَمُ أَنِّي جَلَسْتُ مِنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ مَجْلِسًا إِلَّا نَهَى فِيهِ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَجَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ "
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی