resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: جوئے کی رقم ذاتی استعمال میں لانا

(62547-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں پہلے ایک ایسی گیم کھیلتا تھا جس میں جوا شامل تھا۔ اس گیم سے مجھے 30,000 روپے حاصل ہوئے تھے، الحمدللہ میں نے تقریباً ایک ماہ پہلے وہ گیم مکمل طور پر چھوڑ دی ہے اور آئندہ کبھی نہ کھیلنے کا پکا عزم اور قسم بھی کی ہے۔
ان 30,000 روپے میں سے 10,000 روپے میں نے غریبوں کو دے دیے، 5,000 روپے اپنی ضروری پڑھائی کے اخراجات میں خرچ ہوگئے، کسی شوق یا عیش کے لیے نہیں، باقی 15,000 روپے میرے پاس موجود ہیں۔
اب میری تعلیمی صورتحال یہ ہے کہ میرے امتحانات آنے والے ہیں، امتحان دینے کے لیے آنے جانے کا تقریباً 1,000 روپے خرچ درکار ہے، اور اگر میں امتحان دینے نہ جاؤں تو میرے سمسٹر کا نقصان ہوسکتا ہے، اس وقت میرے پاس حلال آمدنی سے اتنے پیسے موجود نہیں ہیں، جبکہ پہلے والے 5,000 روپے بھی خرچ ہوچکے ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں ان باقی 15,000 روپے میں سے صرف اپنی ضروری پڑھائی اور امتحان کے آنے جانے کے خرچ کے لیے رقم استعمال کرسکتا ہوں یا میرے لیے ضروری ہے کہ باقی پوری رقم بھی مستحق غریبوں کو دے دوں؟ میں جوا چھوڑ چکا ہوں اور دوبارہ کھیلنے کا بالکل ارادہ نہیں رکھتا۔ براہ کرم حنفی فقہ کے مطابق واضح فتویٰ عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ جوئے کی حرمت قرآنِ مجید سے ثابت ہے، جوئے سے رقم حاصل کرنا اور اس رقم کو ذاتی استعمال میں لانا ممنوع اور حرام ہے، جوئے سے حاصل شدہ رقم کا اصل حکم یہ ہے کہ یہ رقم جس اصل مالک سے لی تھی اُسی کو واپس کردی جائے، لیکن اگر اصل مالک تک رقم پہنچانا کسی وجہ سے ممکن نہ ہو تو پھر ثواب کی نیت کے بغیر فقراء میں تقسیم کردی جائے۔
مال حرام صرف انتہائی شدید مجبوری میں بقدرِ ضرورت استعمال کیا جاسکتا ہے، شدید مجبوری کا مطلب ہے کہ جب کسی بھی طرح سے حلال ملنے کی امید نہ ہو اور انسانی جان کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں بقدرِ ضرورت حرام استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس سے کم درجے کی مجبوری میں حرام مال استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے، آپ کے مسئلہ میں آپ کے پاس حلال مال کمانے یا کسی سے قرض لیکر بعد میں واپس کرنے کے آپشن (Option) موجود ہیں، اور نہ ہی آپ کی جان کو کوئی خطرہ ہے اس لیے آپ کے لیے یہ رقم استعمال کرنا جائز نہیں ہے، آپ کو چاہیے کہ یہ مابقیہ 15000 روپے اور جو 5000 روپے آپ نے استعمال کیے ہیں سب فقراء میں بغیر ثواب کی نیت کے تقسیم کردیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (المائدہ: الآیة: 90-91)
یٰأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْأنْصَابُ وَالْأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo إِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطَانُ أَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضآءَ فِیْ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللہِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ، فَہَلْ أَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ o

القرآن الکریم:(البقرۃ، رقم الآیۃ: 173)
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ o

روح المعانی: (694/2، ط: رشیدیة)
وفی حکم ذلک جمیع انواع القمار من النرد والشطرنج وغیرھما حتی ادخلوا فیہ لعب الصبیان بالجوز والکعاب والقرۃ فی غیر القسمۃ و جمیع انواع المخاطرۃ والرھان وعن ابن سیرین کل شئی فیہ خطر فھو من المیسر۔

الفقہ البیوع: (1052/2)
والمال المغصوب وما في حکمہ مثل ما قبضہ الإنسان رشوة أو سرقة أو بعقد باطل شرعاً لا یحل لہ الانتفاع بہ، ولا بیعہ ولا ھبتہ، ولا یجوز لأحد یعلم ذلک أن یأخذہ منہ شراء أو ھبة أو إرثاً، ویجب علیہ أن یردہ إلی مالکہ فإن تعذر ذلک وجب علیہ أن یتصدق بہ عنہ الخ

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance